پاکستان کی ایکسپورٹس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان، ایران نے پاکستان پر 8 سال سے عائد تجارتی پابندی ختم کر دی

پاکستان کی ایکسپورٹس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان، ایران نے پاکستان پر 8 سال سے عائد تجارتی پابندی ختم کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستانی کسانوں کیلئے خوشخبری ہے کہ ایران نے پاکستانی کینو کی درآمد پر پابندی ختم کردی ہے، کینو کی درآمد پر پابندی 2012 سے عائد تھی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بارڈر مارکیٹس کے قیام سے قانونی تجارت کو فردغ ملےگا، کل پاک ایران مشترکہ بارڈر مارکیٹ کا خواب پورا
ہوجائے گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تہران پہنچ گئے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اورایران کے درمیان مذہبی، تہذیبی اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ ایران جانا ہمیشہ باعث مسرت ہوتا ہے۔ دورے کا مقصد پاک ایران اقتصادی اور تجارتی تعلقات مستحکم بنانا ہے۔ پاکستان اورایران کے درمیان دو طرفہ تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔سفارتکاروں کو پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے کاوشیں کرنا ہوں گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایران نے پاک ایران مشترکہ بارڈر پر تجارتی مراکز کھولنے کی تجویز کو سراہا ہے۔کل پاک ایران مشترکہ سرحد پر بارڈرمارکیٹ کا خواب پورا ہورہا ہے۔ بارڈر مارکیٹس کے قیام سے قانونی تجارت کو فردغ ملےگا۔ انہوں نے کہا کہ خوشی ہے ایران نے پاکستانی کینو کی درآمد پر پابندی کو ختم کر دی ہے۔ یہ پاکستانی کاشتکاروں کیلئے خوشخبری ہے۔اقدام پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے استحکام کا مظہر ہے۔ کنو کی کاشت اور کاروبار سے وابستہ پاکستانی تاجروں کیلئے ایک انتہائی خوش آئند بات ہے۔خیال رہے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی تین روزہ سرکاری دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔ امام خمینی انٹرنیشنل ائیر پورٹ تہران پہنچنے پر ایرانی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل و ایرانی وزیر خارجہ کے مشیر سید رسول موسوی، ایران میں تعینات پاکستانی سفیر رحیم حیات قریشی اور تہران میں واقع پاکستانی سفارتخانے کے سینئر افسران نے وزیر خارجہ کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔وزیر خارجہ اپنے تین روزہ دورہ ایران کے دوران، ایران کے صدر حسن روحانی، وزیر خارجہ جواد ظریف سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے،ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعاون، پاکستان اور ایران کے مابین اقتصادی روابط کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا،دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کے فروغ کیلئے پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں “بارڈر مارکیٹس” کے قیام کے حوالے سے بھی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں