اصل ریکارڈ دستیاب ہونے کے باوجود سوئس کیسز بند کیوں کرائے؟ وفاقی حکومت کا سوئس کیسز کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ

اصل ریکارڈ دستیاب ہونے کے باوجود سوئس کیسز بند کیوں کرائے؟ وفاقی حکومت کا سوئس کیسز کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے نیب کے2 سابق چیئرمین اور افسران کیخلاف ایف آئی اے کو تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے، سابق چیئرمین اور افسران کیخلاف 2011 سے2017 کی انکوائری کی جائے گی، نیب افسران نے اصل رکارڈ دستیاب ہونے کے باوجود سوئس کیسز بند کرائے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ
نے نیب کے2 سابق چیئرمین اور افسران کیخلاف ایف آئی اے کو تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔بتایا گیا ہے کہ نیب کے چیئرمین اور ذمہ دار افسران کیخلاف 2011 سے2017 کے دوران کی مدت کی تحقیقات کی منظوری دی گئی ہے۔ نیب افسران نے عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے تندہی سے سوئس کیسز بند کرانے میں کردار ادا کیا۔ نیب افسران کے کردار کی وجہ سے اصل رکارڈ دستیاب ہونے کے باوجود سوئس کیسز بند کرائے ہیں۔واضح رہے یکم اپریل2021ء کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے سابق صدر آصف زرداری کیخلاف سوئس اکاؤنٹس مقدمات کھولنے کا عندیہ بھی دیا تھا، انہوں نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا تھا کہ کابینہ نے براڈشیٹ کمیشن کی رپورٹ میں ملوث 5 لوگوں کے خلاف فوجداری کاروائی کا حکم دیا ہے، ان میں احمد بلال صوفی ، حسن ثاقب شیخ ایف بی آر میں ہیں، سابق سیکرٹری وزارت قانون غلام رسول،سابق برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر عبدالباسط، شاہد علی بیگ، طارق فواد ملک نے براڈ شیٹ کا کنٹریکٹ کروایا تھا، ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔براڈشیٹ کمیشن نے ان پانچ لوگوں کو اہم ملزم ڈکلیئر کیا ہے، براڈشیٹ کمیشن نے ایک اور نقطہ اٹھایا کہ نیب میں 2011اور 2017ء کے درمیان سب سے زیادہ اندھیرنگری مچائی گئی۔ قمرالزمان چیئرمین نیب تھے، ان کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سوئس دستاویزات غائب ہوگئیں، لوگوں کو دستاویزات کا پتا ہی نہیں چلا، اب ان کی مجرمابہ غفلت کا تعین کیا جائے گا، آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کی دوسری قیادت اسی لیے بری ہوئی تھی کہ جب کہا گیا تھا کہ آصف زرداری کیخلاف سوئس اکاؤنٹس کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے، لیکن عظمت سعید شیخ کی کاوش کی ریکارڈ دوبارہ حاصل کیا گیا ہے، اب دوبارہ سوئس اکاؤنٹس کھل سکتے ہیں۔ ہماری قانونی ٹیم جائزہ لے رہی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں