طاقت کے اشاروں پر ناچنے سے انکار جرم ہے تو نواز شریف واقعی مجرم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر صف اول کے صحافی کا خصوصی تبصرہ

طاقت کے اشاروں پر ناچنے سے انکار جرم ہے تو نواز شریف واقعی مجرم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر صف اول کے صحافی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار افضل ریحان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پرویز مشرف کے دستِ راست سابق وزیر داخلہ فرماتے ہیں کہ نواز شریف چوتھی مرتبہ بھی وزیراعظم ہوتے اگر وہ طاقت کے اشاروں کو سمجھتے۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی سیاستدان میں چاہے کتنی ہی خامیاں اور کوتاہیاں کیوں نہ ہوں،

اسے کسی صورت اکھڑ مزاج اور بےلچک نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ ’’اوصافِ حمیدہ‘‘ آمر ذہنیت کیلئے خاص ہیں لیکن ساتھ ہی کسی بھی سیاستدان کو بےاصولا بھی نہیں ہونا چاہئے، آپ لچک ضرور دکھائیں لیکن اپنے بنیادی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے یہاں تو ماشاء اللہ ایسے موقع پرستوں کی کمی نہیں جو خود کو سیاستدان منوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں مگر اپنے بنیادی موقف میں180کے زاویے کا یوٹرن لیتے ہوئے ذرا بھی لاج یا شرم محسوس تک نہیں کرتے۔طاقت کا سرچشمہ کوئی اور نہیں عوام ہیں، جمہوریت کے اس بنیادی اصول کو یہاں ایک نعرے کے طور پر خوب استعمال کیا گیا مگر اس کی معنویت اور تقاضوں پر سوائے نواز شریف اور محترمہ کے شاید ہی کسی نے دھیان دیا ہو۔ ایشو اس ملک کی خارجہ پالیسی کا ہو یا داخلی بنیادی عوامی مفادات کا، ایک منتخب جمہوری عوامی رہنما کی حیثیت سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے ضیاالحق کے مشن سے پیچھا چھڑوانے کے بعد عسکری سربراہان سے بات کرتے ہوئے ہمیشہ اپنی اس حیثیت کو پیش نظر رکھا۔ ایک عملی سیاستدان کی حیثیت سے انہوں نے بہت سے مواقع پر بلاشبہ محترمہ کی طرح کمپرومائز کرنے کی کاوشیں ضرور کی ہیں۔ بہت سے مواقع پر انتہائی ناروا تقاضوں کو کڑوے بلکہ موت کے گھونٹ سمجھ کر پی گئے، محض یہ سوچ کر کہ عوام نے انہیں جس محبت بھرے مینڈیٹ سے نوازا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ مضبوط جمہوریت کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت کے ایجنڈے کی تکمیل کر سکوں اور آنے والے چنائو میں عوام کے سامنے

سرخرو ہو سکوں، مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے کوئی بھی بااصول انسان جس سے نیچے نہیں جا سکتا۔ان حالیہ برسوں میں نواز شریف کو بحیثیت قومی و جمہوری قائد جتنی بھی اذیتوں، تکلیفوں، دکھوں اور مصیبتوں سے گزرنا پڑا ہے ان کی تفصیلات بڑی درد ناک ہیں لیکن انہیں یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اس دعوے کو کہ اب میں روایتی کی بجائے جمہوری انقلابی سوچ کا حامل بن چکا ہوں درست ثابت کر دیا ہے۔ نواز شریف کا بیانیہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اب بڑی حد تک غیر متنازع عوامی بیانیہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈسکہ میں دھاندلی کی جو روایتی مشق کی گئی ہمارے میڈیا نے بلاتفریق اس میں شاندار اصولی وجمہوری رول ادا کیا۔نواز شریف اور ان کی ’’جمہوری تحریک‘‘ کے لئے یہ بات باعث اطمینان ہونی چاہئے کہ ان پر جتنی بھی الزام تراشیاں کی گئی تھیں وقت کے ساتھ ساتھ وہ دھلتی چلی جارہی ہیں۔جھوٹا پروپیگنڈہ ایک ایسا سانپ ہے جو بڑی بڑی سچائیوں کا حلیہ بگاڑ کر انہیں مسخ کر دیتا ہے لیکن پروپیگنڈے کے طوفان میں خود کو سچا ثابت نہیں کر پاتے۔نواز شریف قسمت کے دھنی ہیں جو انہیں اپنی زندگی میں ہی خود کو سچا ثابت کرنے کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ایون فیلڈ کے45 لاکھ انہیں مبارک۔ امید ہے وہ اس رقم سے کسی پسماندہ علاقے میں ڈسپنسری بنوا دیں گے۔ اس تمامتر استقامت اور جدوجہد میں ان کے لئے سب سے بڑھ کر شکر و سپاس کا باعث ان کی باصلاحیت بیٹی محترمہ مریم نواز ثابت ہوئی ہیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں