عمران خان کی دبنگ واپسی ! براڈ شیٹ سکینڈل انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے متعلق بڑا فیصلہ ، سب کو بے نقاب کرنے وقت

عمران خان کی دبنگ واپسی ! براڈ شیٹ سکینڈل انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے متعلق بڑا فیصلہ ، سب کو بے نقاب کرنے وقت۔۔۔۔ روزنامہ سیاست

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) حکومت نے براڈ شیٹ سکینڈل انکوائری کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کی تھی۔یاد رہے براڈ شیٹ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے رپورٹ مکمل کر کے وزیراعظم عمران خان کو پیش کی تھی۔ جسٹس

ریٹائرڈ عظمت سعید پر مشتمل ایک رکنی کمیشن نے مجموعی طور پر 26 گواہان کے بیان ریکارڈ کیے جب کہ ایک سابق خاتون لیگل کنسلٹنٹ طلبی کے باوجود کمیشن میں پیش نہیں ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق براڈشیٹ کمیشن کو تمام تفصیلات نیب دستاویزات سے ملیں۔رپورٹ کے مطابق براڈشیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر کی غلط ادائیگیاں کی گئیں، کمیشن نے نیب کو سوئس مقدمات کا سربمہر ریکارڈ کھولنے کی بھی سفارش کی رپورٹ میں کہا گیا کہ غلط ادائیگی کو صرف بے احتیاطی قرار نہیں دیا جا سکتا، اتنی بڑی رقم غلط شخص کو ادا کرنا ریاست پاکستان کے ساتھ دھوکہ ہے۔ وزارت خزانہ، وزارت قانون اور اٹارنی جنرل آفس سے فائلیں چوری ہوگئیں، پاکستانی ہائی کمیشن لندن سے بھی ادائیگی کی فائل سے مخصوص حصہ غائب ہوگیا۔براڈ شیٹ کمیشن آصف زرداری کے

سوئس مقدمات کا ریکارڈ بھی سامنے لے آیا۔ ‏کمیشن نے نیب کوسوئس مقدمات کا سربمہر ریکارڈ کھولنے کی سفارش کر دی۔ ‏نیب ریکارڈ کو ڈی سیل کر کے جائزہ لے کہ اس کا کیا کرنا ہے، ‏سوئس مقدمات کا تمام ریکارڈ نیب کے سٹور روم میں موجود ہے۔دوسری جانب وفاقی کابینہ نے بھارت سے کپاس منگوانے کی ای سی سی کی تجویز مسترد کردی ہے۔کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں بھارت سے کپاس منگوانے کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے گزشتہ روز بھارت سے کاٹن منگوانے کی تجویز پیش کی تھی۔ ای سی سی نے قیمت کم ہونے پر بھارت سے درآمد کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ کابینہ نے بھارت سے کپاس منگوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجود وسائل سے ہی ضروریات پوری کی جائیں۔گزشتہ روز اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھارت سے چینی، کپاس اور سوتی دھاگہ منگوانے کی اجازت دی تھی۔ اجلاس میں 30

جون 2021 تک بھارت سے درآمد کی منظوری دی گئی۔کمیٹی نے نجی شعبے کو بھارت سے چینی درآمد کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کمی پورا کرنےکے لیےکپاس درآمد کرنی پڑے گی۔ بھارت سے کپاس اور دھاگے کی درآمد سستی پڑے گی۔پاکستان میں کپاس کی سالانہ کھپت ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ گانٹھیں ہیں۔ اس سال کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی کا تخمینہ ہے۔ خیال رہےکہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو معطل کر دیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں