سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنتے ہی یوسف رضا گیلانی کا ایسا اعلان کہ ن لیگ بھی خوشی سے جھوم اٹھی

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنتے ہی یوسف رضا گیلانی کا ایسا اعلان کہ ن لیگ بھی خوشی سے جھوم اٹھی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک پریس میں انہوں نے کہا کہ میرا اپوزیشن لیڈر بن جانا صرف میری ہی نہیں بلکہ پی ڈی ایم کی فتح ہے ، بہت سی جماعتوں نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر بننا پیپلز پارٹی کا حق ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم قائم رہے ، پی ڈی ایم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اکٹھے ہیں ، میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلوں گا ، پی ڈی ایم کے لوگوں سے ملتا رہوں گا۔پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے آصف علی زرداری سے رابطہ کیا اور کہا کہ کسی قسم کا بیان اب نہیں آئے گا لیکن مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما کی جانب سے بیان آیا کہ یہ سرکاری اپوزیشن ہے ، پہلے جب پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی سے سینیٹ سیٹ پر میں امیدوار ہوں گا ، اس پر ہم نے سب کے ساتھ مل کر کامیابی حاصل کی ، ہمارا موقف تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنا کردار ادا کریں گے ، جلسے، ریلیاں اور احتجاج مل کر کرنا تھا ، پی ڈی ایم نے ہماری تجویز مان کر سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں حصہ لیا ، پی ڈی ایم نے ضمنی انتخابات جیت لیے ، بلاول بھٹو کی تجویز تھی کہ عدم اعتماد لائی جائے، استعفوں کو آخری آپشن رکھا جائے۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن کے معاملے پربہت سی جماعتوں نے ہم سے رابطہ کرکے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کا حق ہے ، فاٹا کے آزاد ارکان نے بھی ہماری سپورٹ کی، سینیٹر دلاور جن کا ن لیگ سے کافی تعلق تھا انہوں نے 4 آزاد ارکان کا گروپ بنایا ، اس آزاد گروپ نے ہمارے ساتھ تعاون کیا اور ہمارے30 ووٹ بن گئے ، اس طرح سے میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بن گیا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سے پی ڈی ایم سربراہ اجلاس میں دھرنے کا کہا گیا جس کی ہم نے مکمل تیاری کی ، جب دھرنے سے پہلے سربراہی اجلاس ہوا جس میں آصف زرداری اور نواز شریف بھی بولے ، وہاں کہا گیا کہ استعفوں کے بغیر لانگ مارچ اور دھرنے بے معنی ہیں جو ہمارے لیے نئی بات تھی ، ہم نے پی ڈی ایم اجلاس میں درخواست کی کہ استعفے نہ دئیے جائیں کیوں کہ جمہوریت میں اختلاف رائے چلتا ہے لیکن مولانا فضل الرحمن یہ کہہ کر چلے گئے کہ 10 میں سے 9 جماعتیں متفق ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں