ہم  یہ  کام  کسی  صورت  نہیں  ہونےدیں گے، پیپلزپارٹی کے ساتھ۔۔۔  مسلم لیگ ن نے بلاول بھٹو کےبیانات پر کس سے رابطہ  کر لیا؟ جانئے

ہم یہ کام کسی صورت نہیں ہونےدیں گے، پیپلزپارٹی کے ساتھ۔۔۔ مسلم لیگ ن نے بلاول بھٹو کےبیانات پر کس سے رابطہ کر لیا؟ جانئے

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن نے بلاول بھٹو کے بیانات پر مولانا فضل الرحمان سے رابطے کا فیصلہ کرلیا، آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے بیانات کا جواب نہیں دیں گے، ہمارا ہدف عمران خان ہے، اپوزیشن کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحمزہ شہباز کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں احسن اقبال، جاوید لطیف، سعد رفیق، مریم اورنگزیب، پرویزرشید، عطاءاللہ تارڑ نے شرکت کی۔



اجلاس میں مریم نواز کی نیب پیشی پر مختلف تجاویزکا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں بلاول بھٹوزرداری کے بیانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مسلم لیگ ن نے اس ضمن میں مولانافضل الرحمان سے رابطے کا فیصلہ کیا۔ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے ڈسکہ الیکشن سے متعلق پارٹی رہنماوَں کواہم ہدایات دیں۔


اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر پر جنگ نہیں چاہتے، ہمارا ہدف آئین کی بالادستی ہے۔ تجویز دی کہ اگرآپ سندھ حکومت کو بچانا چاہتے ہیں تو پہلے قومی اسمبلی سے استعفے دیں۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے بیانات کا جواب نہیں دینگے۔ ایسے بیانات سے گریز کریں گے جس سے اپوزیشن تقسیم ہو۔


انہوں نے کہا کہ این آراو نہیں دوں گا جیسے بیانات سےعوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ ملکی معیشت تباہ ہوگئی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ این آراو نہیں دوں گا۔ کرپشن انڈیکس میں بنگلہ دیش اور بھارت پاکستان سے آگے ہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ بھارت اوربنگلہ دیش پاکستان سے ترقی میں کیوں آگے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائد اعظم کی قیادت میں مسلمانوں نے بے سروسامانی کی حالت میں سیاسی جدوجہد سے صرف7سالوں میں ملک حاصل کرلیا تھا، مسلمانوں کے پاس نہ کوئی بجٹ تھا، نہ افسران کی فوج تھی، نہ ہی جنگ لڑنے کیلئے بندوق یاتوپ تھی، یہ بیلٹ کی طاقت تھی ،ووٹ نے 1946میں پاکستان کے خواب کو پورا کیا۔


پاکستان کے خمیر میں بلٹ نہیں بیلٹ ہے۔پاکستان بُلٹ سے نہیں، بیلٹ سے معرض وجود میں آیا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے پاکستان میں ووٹ کو بے توقیر کیا تو وہ مشرقی پاکستان جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی، تحریک آزادی نے جنم لیا وہ پاکستان سے جدا ہوگیا، وہ حصہ اکثریت آبادی پر مشتمل تھا، اس کی وجہ ووٹ کو عزت نہیں دی گئی۔ آج بچے ک پاکستان اور عوام کو جن مشکلات کا شکار ہے اس کی وجہ یہ ہے 22 کروڑ عوام کے ووٹ کی عزت محفوظ نہیں ہے، 2018ء میں مسلم لیگ ن کو ووٹ ڈالا گیا لیکن نتیجہ کچھ اور نکل آیا، 2013سے 2018ء کے ترقی کے سفر کو ووٹ پر ڈاکا ڈال کر ختم کردیا گیا، 18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کو ختم کیا گیا، دہشتگردی کو ختم کیا گیا، سی پیک چلایا گیا، ملکی معیشت کو5.8پر لایا گیا، ووٹ پر ڈاکا ڈال کر بھی معاشی ترقی نہیں کی گئی۔








50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں