کفیلوں کے ناروا سلوک سے پریشان پاکستانیوں کی سُنی گئی! سعودی حکومت کا شاندار فیصلہ، غیر ملکیوں کی سب سے بڑی پریشانی حل کر دی

کفیلوں کے ناروا سلوک سے پریشان پاکستانیوں کی سُنی گئی! سعودی حکومت کا شاندار فیصلہ، غیر ملکیوں کی سب سے بڑی پریشانی حل کر دی

ریاض(نیوز ڈیسک ) سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے کفالت نظام نافذ رہا ہے جس میں سعودی کفیل کو اپنے غیر ملکی ملازمین پر بے پناہ اختیارات ہوتے ہیں۔ پاکستانی ملازمین کی ایک بڑی گنتی بھی کفیلوں کی بے جا سختی اور ضرورت سے زائد کام لیے جانے جیسے استحصالی رویئے کا شکار بنتی رہی ہے۔تاہم اب ان کے لیے آزادی اور سکون سے ملازمت کرنے کے دن جلد شروع ہونے والے ہیں۔

سعودی مملکت میں آئندہ اتوار 14 مارچ سے دہائیوں پرانا کفالت نظام ختم ہو جائے گا، جس کے بعد پہلے والے تمام معاہدے بھی منسوخ ہو جائیں گے۔ 14 مارچ سے ملازم اور آجر کے درمیان ملازمت کے نئے معاہدے طے پائیں گے جس میں ملازمین کو بہت سی سہولیات اور رعایتیں حاصل ہوں گی۔سعودی وزارت سماجی بہبود کے مطابق تمام نجی اداروں کے غیر ملکی کارکنان کے نئے معاہدے ہوں گے جن کا ابشر اور قوی پلیٹ فارم پر اندراج ہو گا۔پرنے کفالہ سسٹم کی جگہ ایگریمنٹ سسٹم رائج ہو جائے گا۔

نئے قانون کے تحت وہی سمجھوتے تسلیم کیے جائیں گے جن کی وزارت کی جانب سے باقاعدہ تصدیق کی جائے گی اور ان کا آن لائن اندراج بھی ہو گا۔ وزارت کے مطابق آجر اور کارکن کے درمیان نیا معاہدہ طے پانے کے لیے وزارت محنت کے پورٹل ’مدد‘ میں آجرکا اکاونٹ بنایا جائے گا جس میں معاہدہ ملازمت اور شرائط درج ہوں گی۔

اس معاہدے کا لنک کارکن کو بھیجا جائے گا۔ جو اسے بغور دیکھنے کے بعد راضی ہونے کی صورت میں اسے قبول کر لے گا۔ اگر اسے معاہدے کی کوئی شق منظور نہیں ہو گی تو وہ اس پر اعتراض اٹھا کر رد کر سکتا ہے۔ تاہم معاہدہ رد کرنے کی وجہ بتانی ہو گی۔اگر آجر اور کارکن کے درمیان اُجرت طے پا گئی ہے مگر معاہدے میں آجر کی جانب سے اُجرت کی مد میں کم رقم درج کی جاتی ہے تو کارکن اس پر اعتراض اٹھا سکتا ہے۔

اسی طرح ڈیوٹی کے اوقات یعنی کام کے گھنٹوں کا دورانیہ زیادہ ہونے پر بھی کارکن اعتراض اُٹھا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ تعطیلات اور دیگر مراعات پر اختلاف ہونے کی صورت میں بھی کارکن نشاندہی کر سکتا ہے۔ اگر دونوں جانب سے راضی نامہ ہو جائے تو پھر اس معاہدے کی منظوری کے بعد اس کا حکومتی ریکارڈ میں بھی اندراج ہو جائے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں