اگر آپ سخت فقرو فاقہ میں مبتلا ہیں غریبی جان نہیں چھوڑتی تو نبی پاک ﷺ کا بتایا ہوا یہ وظیفہ کر لو۔

اگر آپ سخت فقرو فاقہ میں مبتلا ہیں غریبی جان نہیں چھوڑتی تو نبی پاک ﷺ کا بتایا ہوا یہ وظیفہ کر لو۔

فقروفاقہ ہر قسم کی یار رو رو کر زندگی گزررہی ہے کیسے اس کا حل کریں تو نبی مکرم شافع محشر ساقی کوثر حضرت محمدِ مصطیٰ حبیبِ خداﷺ کا بتایا ہوا یہ وظیفہ یہ فرمان یہ عمل آپ پڑھ لیجئے میں کہتا ہوں کہ غریبی معافی مانگے آپ سے معذرت کر کے آپ سے معافی طلب کر کے جائے گی ۔یہ عمل جو بتایا جارہا ہے حوالہ بھی دیا جائے گا اور اگر آپ اس پر کاربند رہے تو یار ایک بار آزما لیجئے اگر آپ اس پر کاربند رہے تو دولت رزق آپ کے قدموں میں لوٹ پوٹ ہوجائے گا اور آپ کے قدموں میں گر گر کر آپ سے اپنے لئے غلامی مانگے گا کہ آپ ہمارے آقا بن جاؤ اور میں آپ کا غلام ہوں نبی پاک ﷺ نے ہمیں ایک تعلیم دی ہے

اس کو غور سے پڑھ لیجئے کہ جس شخص پر فقروفاقہ اور مفلسی آگئی ہو تو اسے کیا کرنا چاہئے نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے فرمان کا مفہوم ہے کہ جو بندہ غریبی مفلسی میں گر چکاہو تووہ آگے پیچھے اپنے رشتہ داروں کو اپنے جاننے والوں کے آگے روتا رہے یا ر میں بہت غریب ہوں بہت پریشان ہوں تو پھر فرمانِ مصطفیٰ کا جو مفہوم ہے وہ سن لیجئے کہ آپ پر کبھی بھی امیری اور رزق کی فراوانی نہیں آئے گی مطلب کیا ہے کہ جس نے اپنی مفلسی کو اپنے ارد گرد جاننے والوں کے ساتھ شیئر کیا بتایا کہ میں مفلس ہوں میرا کچھ کیجئے یا نا کچھ کیجئے تب بھی بتایا یار میرے پاس بہت تکلیف ہے کوئی بھی پوچھے کہو اللہ کا شکر ہے جس حال میں بھی اس نے ہمیں رکھا ہے یعنی کہ الحمد للہ علی کل حال اور حضور پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ جس نے اپنی مفلسی کو اپنے رب کے آگے پیش کیا تو اللہ تعالیٰ اسے جلد یا بدیر جیسے حکمتِ خدواندی ہو اللہ تعالیٰ اسے نواز دیتا ہے اسے عطا کردیتا ہے

دیر سے کرے جلدی کردے یہ اللہ کی حکمت ہے کہیں پر ایسے بھی ہوتا ہے کہ ہمیں دیر سے دیاجاتا ہے اگر وہ جلدی دے دیا جاتا توہوسکتا ہے کہ ہمارے حالات اس سے بھی برے ہوجائیں جیسے ہم غریب تھے تو ہمارے حالات برے تھے کیا پتہ اللہ کی حکمت کے مطابق اللہ آپ کو جلدی دے آپ کے اس سے بھی برے حالات ہوجائیں ایسی بیماری ایسا صدمہ آپ کو گھیر لے نبی پاکﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے پھر عنایت کردیتا ہے جو صرف اللہ سے مانگتا ہے یا اللہ سے التجا کرتا ہے یا اپنا دکھ درد مصیبت اللہ کو بتاتا ہے اور یہ حوالہ بھی ہے سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2326 ہے اور ابن ماجہ کی ہی ایک اور حدیث ہے جو شخص استغفار میں لگا رہے یعنی استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ یا اس طرح اور بھی استغفارہیں جو شخص استغفار میں لگارہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات اسے ہر دشوار ی سے نکلنے کا راستہ دے دیتی ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں