25یا50فیصد اضافہ۔۔ کنفرم خبر آ گئی۔۔ سرکارملازمین کو سوچ سے زیادہ بڑی خوشخبری سنادی گئی۔۔موجاں ہی موجاں

25یا50فیصد اضافہ۔۔ کنفرم خبر آ گئی۔۔ سرکارملازمین کو سوچ سے زیادہ بڑی خوشخبری سنادی گئی۔۔موجاں ہی موجاں

25یا50فیصد اضافہ۔۔ کنفرم خبر آ گئی۔۔ سرکارملازمین کو سوچ سے زیادہ بڑی خوشخبری سنادی گئی۔۔موجاں ہی موجاں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا۔فیض اللہکموکا کی زیرصدارت قائمہ کمیٹیبرائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائےریونیو ڈاکٹر وقار مسعود نے بتایا کہ

آئی ایم ایف کے ساتھ نئے مالی سال کے بجٹ پر کام کررہے ہیں، اتفاق رائے سے آئندہ بجٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ
آئندہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا اور آئندہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 5 فیصد رکھا گیا ہے، بجٹ میں مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد اور بجٹ خسارہ 6.3 فیصد رکھا گیا ہے جب کہ ملکی مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے 81.4 فیصد کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ملکی معیشت کا حجم 54 ہزار 341 ارب ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔وقار مسعود نے بتایا کہ
آئی پی پیز کی ادائیگیوں اور پاورسیکٹر کیلئے سبسڈیز جاری رہیں گی، مالی سال 2021-22 میں 7 ہزار 989 ارب روپے گراس ریونیو کا ہدف رکھا گیا ہے، رواں مالی سال کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 7.3 فیصد ہے، رواں مالی سال 4100 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا گیا، امید ہے رواں مالی سال 4700 ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوگا۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ

ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ابھی بھی دباو¿ میں ہے، خوراک کی مہنگائی کے حوالے سے آئی ایم ایف سہولت دے گا، کورونا کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام کے4 جائزے تعطل کا شکار رہے، آئی ایم ایف کی باقی شرائط پرعملدرآمد کیا جائے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں