حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے یہ وظیفہ رسول پاک ﷺ نے بتایا ہے

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے یہ وظیفہ رسول پاک ﷺ نے بتایا ہے

آج آپ لوگوں کو ایک ایسا وظیفہ بتائیں گے ۔ جو کہ بہت ہی زیادہ پاووالا ہے۔ جو بہت ہی طاقت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وظیفے کو مولاکائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ رات کو سونےسےپہلے پڑھا کرتے تھے اور اس وظیفے میں اتنی طاقت اورفضیلت رکھی گئی ہے۔ اور جو کوئی پڑھ لیتا ہے۔

اور اس کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیتا ہے تو وہ کبھی بھی رزق کی کمی کا شکار نہیں رہتا۔ کبھی اس کی صحت کمزور نہیں پڑتی۔ اور کبھی وہ زندگی میں دنیاوی معاملات کی وجہ سے پریشان نہیں ہوتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیاگیا کہ رزق سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا : رزق کی تین سو تیرہ قسمیں ہیں جن میں سب سے کم تر وہ قسم ہے۔ جو تم منہ میں ڈالتے ہو۔ اور حیرت والی بات ہے کہ دنیا دار اس رزق پر مرجارہے ہیں۔ اسی رزق کی وجہ سے اللہ کو بھول بیٹھتے ہیں ۔ تو سوالی نے سوال کیامولا علی ؑ سے کہ حیرت ہے میں تو آج تک اسے رزق ہی سمجھ بیٹھا تھا۔

اسے ہی سب کچھ سمجھ بیٹھاتھا۔ تو پیارے علی نے فرمایا کہ : سب سے اعلی ٰ قسم کا جو رزق ہے وہ رزق ہے معرفت الہیٰ ۔ معرفت الہیٰ تین سو تیرہ قسموں میں سے سب سے پہلے نمبر پر رزق ہے جس پر مولا کائنات نے فرمایا۔ لیکن معرفت الہی ٰ تو دور کی بات ہم تو پانچ وقت کی نماز ہی اد ا نہیں کرپاتے ۔ جب آپﷺ کے گھروالوں پر تنگی ہوتی تو آپ اسے نمازکاحکم فرماتے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے : جو ہمارے ذکر سے منہ موڑے گا۔ تو اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی۔ اس سے پتہ چلا جو لوگ ذکر کریں گے ۔

ا للہ کو یاد کریں گے ۔ ان سے رزق کی تنگی دور ہوجائےگی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب سے یہ وظیفہ حضور پاک ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بتایا ہے تب سے میں نے سونے سےپہلے اس وظیفہ کو نہیں چھوڑا۔ یعنی اس وظیفہ میں اتنی پاور ہے اتنی طاقت ہے کہ مولا کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر رات سونےسےپہلے اس وظیفہ کو پڑھ کر سوتے تھے آپ فرماتے ہیں کہ بس ایک مرتبہ مجھ سے یہ وظیفہ نہیں پڑھا گیا۔ وہ وقت جنگ سفین کا تھا۔ جس میں کافی رات کا وقت ہوگیا لیکن پھر بھی میں نے رات کے آخری وقت میں یہ وظیفہ پڑھ لیا تھا۔

یہ وظیفہ کونسا ہے۔ چھوٹا ساوظیفہ ہے۔ جس میں آپ لوگوں نے رات کو سونےسےپہلے 33 مرتبہ “سبحان اللہ ” ، 33 مرتبہ “الحمد اللہ ” اور 34 مرتبہ “اللہ اکبر” پڑھ لینا ہے۔ اس وظیفہ کو تسبیح فاطمہ بھی کہتے ہیں ۔ اور آپ غور کریں گے کہ ش یطان آپ کو یہ وظیفہ اور یہ تسبیح پڑھنے سے بہت روکے گا۔ جب آپ رات کو یہ تسبیح پڑھنا شروع کریں گے ۔ توآپ کو نیند آنا شروع ہوجائےگی۔آپ حیران رہ جائیں گے ۔ کہ اس وظیفے کو پڑھتے پڑھتے ہوسکتا ہے۔ کہ آپ کو نیند آجائےاور آپ سوجائیں اور آپ کا یہ وظیفہ اور یہ تسبیح پوری بھی نہ ہوپائے کیونکہ ش یطان آپ کو یہ تسبیح پڑھنے سے بہت روکتا ہے کہ کہیں اس کی صحت نہ بن جائے۔

کہیں اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا نہ ہوجائیں کہیں اس تسبیح کو اپنی زندگی کا حصہ نہ بنالے۔ کیونکہ اس تسبیح میں پاور بھی اتنی ہے کہ انسان کے بگڑے ہوئے کام سنورنے شروع ہوجائیں گے۔ چاہے جیسے مرضی معاملات ہوں۔اللہ پاک ان کو سنوار دیتا ہے۔ اس لیے گزارش ہے کہ اس تسبیح کوآپ لوگ خود بھی پڑھیں ۔ اور اپنے دوسرے بہن بھائیوں کو بھی بتائیں کیونکہ یہ تسبیح مولاکائنات اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رات کو سونے سےپہلے پڑھا کرتے تھے ۔ آپ سے گزار ش ہے کہ اس تسبیح کوضرور پڑھیں اللہ تعالیٰ آپ سب کے کاموں میں برکت اور آسانیاں پیدا فرمائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں