کئی اراکین حکومت کو چھوڑنے کے لیے تیار، سب سے بڑا عویٰ کر دیا گیا

کئی اراکین حکومت کو چھوڑنے کے لیے تیار، سب سے بڑا عویٰ کر دیا گیا

اسلام آبا د(نیوز ڈیسک ) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ کئی ارکان حکومت سے انحراف کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران کہا کہ پی ڈی ایم میں وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے پربحث نہیں ہوئی،نظام کی تبدیلی کے بجائے اقتدار
میں حصہ ڈھونڈنا شروع کر دیں تو بات نہیں بنے گی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ضمنی انتخاب ہو یا سینیٹ الیکشن حکومت کی کمزور واضح ہو گئی۔حکومت سے انحراف کرنے کے لیے کئی لوگ تیار ہیں، حکومت کمزور وکٹ پر کھیل رہی ہے۔حکومت کھوکھلی ہو چکی ہے اور اخلاقی اتھارٹی ختم ہو چکی ہے۔ لیگی رہنما کے مطابق ن لیگ کی سینیٹ کی پارلیمانی میٹنگ میں دو ارکان نے کہا انہیں فون آئے ہیں،ٹیلیفون اور دباؤ کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئیے۔اعتماد کا ووٹ جعلی تھا ،کس طرح کہا گیا پی ٹی آئی ارکان ہمیں بتا رہے ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان سے ایک امیدوار کو 70 کروڑ روپے میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا گیا۔پارٹی نے قبول نہیں کیا تو امیدوار بلوچستان عوامی پارٹی میں چلا گیا۔باپ پارٹی سے سینیٹ رکن منتخب ہو کر وہ واپس پی ٹی آئی میں آ گئے۔عمران خان کی بڑی کامیابی ہے کہ سینیٹ کا ووٹ بھی حاصل کر لیا اور 70 کروڑ بھی۔قبل ازیں شاہد خاقان نے کہا کہ حکومت تو ہارس ٹریڈنگ کر چکی ہے، 70 کروڑ بلوچستان میں کس نے دئیی 50 ،50 کروڑ فنڈ کا وعدہ سیاسی رشوت نہیں تو کیا ہے، وزیراعظم نے ایک ایک ایم این اے کو بلا کر فنڈز دیے، ملک میں پارلیمان کا نظام مفلوج ہے۔ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان نے کہا کہ عدم اعتماد پنجاب میں لائیں یا وفاق میں، ہمارے پاس مختلف آپشنز ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ الیکشن ہار جائے تو اسے استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ آئین میں وزیراعظم کے خود اعتماد کا ووٹ لینے کی گنجائش نہیں، عمران خان نے پوری اپوزیشن کو دھمکیاں دیں، چیئرمین سینیٹ کا الیکشن آنے والا ہے۔چیئرمین سینیٹ کے عدم اعتماد کے معاملے پر جو ہوا وہ اب دوبارہ نہیں ہوگا۔لیگی رہنما نے کہا کہ جو 6 مارچ کو پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا وہ سب نے دیکھا، کیا اب ہم مسلح ہوکر پریس کانفرنس کرنے آیا کریں گی کیا یہ ملک کو ان ہی روایات پر چلائیں گے۔
10

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں