’’ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میری پیٹھ پر چھرا گھونپا اور۔۔۔‘‘  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سماعت کے دوران پھٹ پڑے،  ناقابلِ یقین انکشافات

’’ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میری پیٹھ پر چھرا گھونپا اور۔۔۔‘‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سماعت کے دوران پھٹ پڑے، ناقابلِ یقین انکشافات

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسی نظر ثانی کیس کی سماعت کررہا ہے۔فائز عیسیٰ نے دلائل دئیے کہ فیض آباد دھرنے کے بعد مجھ پر قیامت برپا کی گئی ۔ کیا فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کا جج نہیں ؟

خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا ۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے آپکی عزت کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ جو مرضی الزام لگائیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے جسٹس منیب اختر سے معذرت کرلی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے نظر ثانی کیس میں دلائل کا آغاز شعر و شاعری کیساتھ کرتے ہوئے کہا غم عشق لیکر جائیں کہاں۔۔آنسووں کی یہاں کوئی قیمت نہیں۔۔۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں اہلیہ اور بیٹی سے معذرت خواہ ہوں,میری وجہ سے اہلیہ اور بیٹی کا نام کیس میں آیا۔آج تک ایک شخص عدالت میں موجود نہیں ہے۔ فائز عیسیٰ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے مزید کہا فروغ نسیم کے لیے عدالت کا احترام نہیں وزرات ضروری ہے۔فروغ نسیم نے میری اہلیہ اور مجھ پر الزامات عائد کئے۔فروغ نسیم کو شاید اسلامی تعلیمات کا بھی علم نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی اپنی اہلیہ کے لیے کام کرتے تھے۔ فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ کیس ایف بی ار کو بھجوانے کا فیصلہ عدالتی اختیارات سے تجاوز تھا۔آرٹیکل 184/3 بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ہے۔ججز سے غلطی ہو جائے تو نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے۔عدالتی حکم آئین اور متعدد قوانین کے خلاف ہے۔کسی شخص کے ٹیکس ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی فوجداری جرم ہے۔وزیر قانون نے اپنے دلائل میں انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 198 کو بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا تھا۔سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی فروغ نسیم تحریری دلائل جمع کراتے رہے۔فروغ نسیم نے حلف کی خلاف ورزی کی، انہیں فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا تفصیلی فیصلہ آنے سے پہلے ہی

ایف بی آر کو کارروائی مکمل کرنے کا کہا گیا۔ٹیکس کمشنر ذوالفقار احمد نے عدالت کے دباؤ میں آکر کارروائی کی۔سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان نے بدنیتی پر مبنی کارروائی کی۔مجھے صفائی کا موقع نہیں دیا۔سپریم جوڈیشل کونسل نے انصاف کا قتل عام کیا۔صدر نے میرے تین خطوط کا جواب تک دینا گوارا نہیں کیا۔مجھے ریفرنس کی کاپی نہیں ملی لیکن میڈیا پر بینڈ باجا شروع ہوگیا۔میرے اور اہلخانہ کیخلاف فیفتھ جنریشن وار شروع کی گئی۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میرا موقف سنے بغیر میری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔میرے ساتھی ججز نے جوڈیشل کونسل میں مجھے پاگل شخص قرار دیا۔کہا گیا عمران خان کی فیملی کے بارے میں بات نہیں ہوسکتی۔عمران خان کرکٹر تھے تو میں ان کا مداح تھا آٹوگراف بھی لیا ۔عمران خان بھی ایک انسان ہیں۔جسٹس (ر)عظمت سعید میرے دوست تھے لیکن ان کے فیصلے پر دکھ ہوا۔جسٹس (ر)عظمت سعید آج حکومت کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔ملک کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے۔پاکستان کو باہر سے کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ جسٹس عمر بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں ہیں ان کی نشاندہی کریں۔سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں آپکے وکیل نے دلائل نہیں دیئے تھے۔جس پر قاضی فائز عیسی نے کہا میری درخواست کا ایک حصہ ریفرنس دوسرا جوڈیشل کونسل سے متعلق تھا۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے کہ آپ کے وکیل نے جوڈیشل کونسل والے حصے پر دلائل نہیں دیئے تھ۔سپریم جوڈیشل کونسل والے حصے پر نظرثانی میں دلائل کیسے دے سکتے ہیں۔جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے جواب دیا کہ عدالت نے ریفرنس کو اپنے فیصلے میں زندہ رکھا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں