اماراتی حکومت اور شارجہ کے بعددُبئی کا بھی انسانیت نواز اقدام، سینکڑوں پاکستانی قیدی رہا کر دیئے

اماراتی حکومت اور شارجہ کے بعددُبئی کا بھی انسانیت نواز اقدام، سینکڑوں پاکستانی قیدی رہا کر دیئے

دُبئی(ویب ڈیسک) رمضان المبارک کا مہینہ برکتوں اوررحمتوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں گناہگاروں پر بھی اللہ کی کرم اور نوازش ہوتی ہے جن کا ذریعہ اس کی مخلوقات میں شامل دوسرے انسان ہی بنتے ہیں۔متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی جانب سے ہر سال رمضان، عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر ہزاروں

قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا جاتا ہے۔گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کی وفاقی حکومت اور شارجہ کے فرمانروا کی جانب سے سینکڑوں پاکستانیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب دُبئی کی جیلوں میں بند سینکڑوں پاکستانیوں کو بھی رہائی مل گئی ہے۔دُبئی کے فرمانروا اور متحد ہ عرب امارات کے وزیر اعظم و نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی رمضان المبارک کے موقع پر سینکڑوں قیدیوں کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ایک خصوصی فرمان کے ذریعے 553 قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جن میں سینکڑوں پاکستانی قیدی بھی شامل ہیں۔ رہائی پانے والے قیدی معمولی جرائم میں ملوث تھے یا قرض نادہندہ ہونے کی وجہ سے سزا کاٹ رہے تھے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے اماراتی صدر شیخ خلیفہ بن زاید اور شارجہ کے فرمانروا ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے الگ الگ حکمناموں کے ذریعے سینکڑوں قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ نے ایک حکم نامے کے ذریعے رمضان کی خوشیوں کی مناسبت سے مملکت کی مختلف جیلوں میں بند 439 قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان قیدیوں میں سینکڑوں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ رہا کیے گئے قیدیوں کے ذمہ مالی واجبات اماراتی صدر اپنی جیب سے ادا کریں گے۔دوسری جانب شارجہ کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے بھی رمضان المبارک سے پہلے شارجہ کی جیلوں میں قید 206 قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے، ان میں قیدیوں میں زیادہ تر غیر ملکی ہیں جن میں درجنوں پاکستانی بھی شامل ہیں۔امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی وام کے مطابق جن قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے ان کا جیل میں ریکارڈ اور برتاؤ بہت اچھا تھا۔ انہوں نے قید کے دوران اپنی ذات میں اصلاح کی بھرپور کوشش کی ۔ یہ قیدی معمولی مقدمات میں سزائیں بھُگت رہے تھے۔ اماراتی حکام کا کہنا تھا کہ بھرپور اُمید ہے یہ قیدی رہا ہونے کے بعد ایک نیک اور صالح زندگی بسر کریں، جائز ذرائع سے روزگار کما کر اپنے پریشانیوں کے شکار گھر والوں کی کفالت کر کے انہیں زیادہ سے زیادہ خوشیاں مہیا کریں گے۔رہائی پانے والے قیدیوں نے اماراتی حکمرانوں کا شکریہ ادا کر کے اپنی سابق زندگی پر ندامت کا اظہار کیا ہے اور یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اب کبھی جرائم کی طرف راغب نہیں ہوں گے۔ اپنے گھر والوں کو عزت کی روٹی کھلائیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں