امریکی کمپنی کی کورونا ویکسین کامیاب۔۔۔ مگر مارکیٹ میں کیوں نہیں لائی جا رہی؟ حیرت انگیز تفصیلات جاری

نیویارک(ؤیب ڈیسک ) نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے انسانی آزمائش کے مرحلے میں داخل ہونے والی سب سے پہلی ویکسین کے ابتدائی نتائج متاثر کن رہے ہیں۔امریکی کمپنی موڈرینا نے مارچ میں سب سے پہلے کورونا وائرس کے حوالے سے تجرباتی ویکسین ایم آر این اے 1273 کی آزمائش انسانوں پر شروع کی تھی

اور اب لگ بھگ 4 ماہ بعد پہلے مرحلے کے مکمل نتائج سامنے آئے ہیں، جبکہ مئی میں کمپنی نے ابتدائی نتائج جاری کیے تھے۔طبی جریدے دی نیو انگلیند جرنل آف میڈیسین میں یہ نتائج شائع ہوئے اور ان کے مطابق یہ تجرباتی ویکسین انسانوں کے لیے محفوظ اور کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے مطلوب مدافعتی ردعمل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔تحریر جاری ہے‎اس ویکسین کی تیاری میں شامل یو ایس نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ سائنسز کے ماہرین نے کہا کہ نتائج سے ویکسین پر مزید تحقیق کے خیال کو تقویت ملتی ہے۔یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب موڈرینا کی جانب سے ویکسین کے تیسرے اور آخری مرحلے کا آغاز 27 جولائی سے ہورہا ہے جس میں 30 ہزار افراد کو شامل کرکے دیکھا جائے گا کہ ویکسین کورونا وائرس کی روک تھام میں کس حد تک موثر ہے۔منگل کی شب جاری ہونے والے نتائج ان 45 رضاکاروں پر ویکسین کے اثرات کا ذکر کیا گیا تھا جو مارچ میں ویکسین کی ابتدائی آزمائش کا حصہ بنے تھے۔18 سے 55 سال کی عمر کے ان رضاکاروں کو 3 گروپس میں تقسیم کرکے، کم، درمیانی یا زیادہ ڈوز دی گئی۔ان رضاکاروں کے خون میں وائرس کو ناکارہ بنانے والی اُس سطح کی اینٹی باڈیز بن گئیں جو کووڈ 19 کو شکست دینے والے افراد میں دیکھی گئی تھیں۔اس آزمائش کے دوران کچھ رضاکاروں کو کچھ ہفتوں میں ویکسین کے 2 ڈوز دیئے گئے جس سے اینٹی باڈیز کی سطح بڑھانے میں مدد ملی۔تحقیق کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا مگر بنیادی طور پر اس کا مقصد یہ دیکھنا تھا

Reference:Hassan Nisar

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں