مشکل ترین حالات ، سخت ترین مقابلہ : عمران خان بمقابلہ جہانگیر ترین ۔۔۔۔۔ کس کی جیت ہو گی اور کون ہار جائے گا ؟ وارننگ جاری کر دی گئی

مشکل ترین حالات ، سخت ترین مقابلہ : عمران خان بمقابلہ جہانگیر ترین ۔۔۔۔۔ کس کی جیت ہو گی اور کون ہار جائے گا ؟ وارننگ جاری کر دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار امتیاز عالم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔المیہ یہ ہے کہ دو نمبر معاشی ڈھانچے، مفت خور طفیلی ریاست کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں۔ اور اس کا جہنم بھرتے ہیں۔ اس بندوبست کو ہی اسٹیٹس کو کہا جاتا ہے۔ جب عمران خان نے اسٹیٹس کو توڑنے کا

نعرہ لگایا تو دراصل اس کا نشانہ پرانے سیاسی ورثہ کی دو بڑی جماعتوں کی اجارہ داری تھی۔ دو پرانی جماعتوں کی اجارہ داری تو انہوںنے توڑ دی لیکن اسٹیٹس کو توڑنے کی جانب وہ اب آئے ہیں۔ یا پھر حالات نے انہیں اسٹیٹس کو گروہوں کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔ ان کی پاپولسٹ لفاظی حقیقی لڑائی میں بدلتی جا رہی ہے۔ لیکن وہ شاید بھول رہے ہیں کہ وہ تو خود ریاستی وائسرائی نوکر شاہانہ اسٹیٹس کو کا پر تو ہیں۔ لیکن ریاستی ڈھانچے بھی کنگالی کے ہاتھوں تنگ آتے جا رہے ہیں۔ تووہ یقیناً ان گروہوں کے قلع قمع پر مائل ہوں گےکہ کاروبار حکمرانی جاری رہے۔ یہ زندگی اور موت کی کشمکش ہے اور استحصالی نظام کی اندرونی کشمکش۔ جس سے عمران خان فائدہ اٹھا کر ان کا گلا دبوچ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اکیلا چنا کیا بھاڑجھونکے گا؟ عمران خان کی اپنی جماعت ، کابینہ اور اتحادیوں میں بڑے بڑے مگر مچھ بیٹھے ہیں۔ اپنے ہی مگر مچھوں پر وہ ہاتھ ڈال کر اعلیٰ اخلاقی سیڑھی پر تو چڑھ گئے ہیں۔ لیکن متاثرین ان کے خلاف ایک غیر مقدس محاذ بنانے جا رہے ہیں، ان کے خلاف اترے بھی ہیں تو ان کے غیر رسمی ڈپٹی پرائم منسٹر جہانگیر ترین۔ تحریک انصاف میں اندرونی خلفشار پھوٹ پھوٹ کر باہر آرہا ہے۔ آئندہ دنوں میں دیکھئے کتنا بڑا محاذ کھڑا ہونے جا رہا ہے؟ کیا کپتان بھیگی بلی بن کر ان کے آگے لیٹ جائے گا یا پھر اسٹیٹس کو توڑنے کی راہ پر چل نکلے گا۔ کیا وہ رسک لے گا کہ حکومت تو ہو نہیں رہی، جاتی ہے تو جائے اور وہ مسیحا بننے نکل کھڑا ہو۔ شاید تحریک انصاف کی یوتھ اس انتظار میں ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اسٹیٹس کو کی استحصالی قوتوں کو شکست کوئی ایسی پارٹی نہیں دے سکتی جو خود دراصل اسٹیٹس کو کی سیاست کی باج گزارہو۔ اس کے لیے محنت کش عوام کی تحریک اور ایک انقلابی پارٹی چاہیے جو کہ ہے نہیں۔ تو پھر اس اتھل پتھل کاکیانتیجہ برآمد ہو گا۔ وہی جو ادھورے انقلابوں کا ہوتا ہے۔ قدم بڑھائو عمران خان اسٹیٹس کو ـ ـ ـ کی دیوار کو ایک دھکا اور دو۔پنجابی ضرب المثل ہے۔ راہ پیا جانے، واہ پیا جانے۔۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں