جب آپ لفظ کورونا منہ سے نکالتے ہیں تو دجال کو بلا رہے ہوتے ہیں

کرونا نام یہ اتفاق نہیں خفیہ انتخاب ھےیہ معلومات پڑھ کر آپ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔وھم اور خوف سے دنیا میں پھیلائے گئے باطل نظریات کو ” کرونا وائرس” کہا جاتا ھے.کیا آپ جانتے ھیں یہ لفظ “کرونا” یہودیوں کی مذھبی کتاب “تلمود” میں بھی بڑے معنی خیز انداز میں موجود ھے. کرونا کو عبرانی میں “קרא נא” ایسے لکھا جاتا ھے اسکی معنی ہے “پکارنا یا آواز لگانا”کس کو پکارنا ؟؟؟اسکا جواب ھے یہودیوں کا مسیحاآرتھوڈوکس
یہودیت کے مطابق مسیحا جسے انگلش میں Moshiach یا Hashem کہتے ھیں، دجال نہیں بلکہ ایک ایسا لبرل یہودی النسل رہنماء ھوگا جو مسجد اقصی کو شہید کر کے اسکی جگہ دجال کیلیے ” ہیکل سلیمانی” تعمیر کرے گا یہودیت کے مطابق جب وہ مسیحا آئے گا تو اس وقت سب لوگ گھروں میں چھپے ھوئے ھوں گے، اسے پکار رھے ھوں گے یعنی ھر کوئی اسے ان الفاظ سے پکار رھا ھوگا کہکرونا کرونا کرونا…….یعنی اے ہمارے مسیحاآجاؤ، آجاؤ،
اب آجاؤ…..!!!اسکے علاوہ نئے کرونا وائرس کو (COVID-19) کا نام بھی یہودیوں نے دیا ھے اور آپ اسے بھی ھر گز اتفاق نہ سمجھیں.میں ھمیشہ قارئین کو سمجھاتا رھا ھوں کہ یہودی ھمیشہ ذو معنی الفاظ ایجاد کرتے ھیں جن کا ظاھری مطلب کچھ اور جبکہ اصل مطلب کچھ اور ھی ھوتا ھے. لفظ COVID یہودی مذھبی کتاب “تلمود” کے پانچویں باپ Masechet Berachot کے پہلے پیراگراف میں کچھ اس موجود ھے”אין עומדין להתפלל אלא מתוך כובד דראש”اسکی معنی ہے کہ”کسی شخص کو اس وقت تک نماز کے لئیےنہیں اٹھنا چاھیئے جب تک کہ اس کو کووڈ COVID نہ ھو”کووڈ کیا ھے؟؟؟ یہودی علماء اسکی تشریح کرتے ھوئے بتاتے ھیں کہ اس کا مطلب ھے عاجزی، یعنی آپ کا
اس بات پر ایمان ھو کہ ھم کچھ بھی نہیں ھیں اور ھاشم (مسیحا) کے بغیر ھم کچھ کر بھی نہیں سکتے اس لیئے ھمیں اس کو کووڈ COVID کے ساتھ پکارنا ھوگا، عاجزی سے اسے آواز دینی ھوگی۔اور کیا آواز دینی ہوگی؟؟؟اسکا جواب ہے 19. اب یہ 19 کیا ہے؟؟؟19. Sim Shalom (“Grant Peace”) – asks God for peace, goodness, blessings, kindness and compassion. یہاں 19 کا مطلب تلمود میں موجود یہودی نماز کا انیسواں کلمہ ھے.یعنی ھمیں کرونا کے ساتھ 19 واں کلمہ دھراتے رھنا ھوگا جب ھی ھمارا مسیحا آکر مسجد اقصی گرا کر وھاں دجال کے لیئے ھیکل سلیمانی تعمیر کرے گا۔اب آپ کو سمجھ آگئی
ھوگی کہ صیہونی اپنے پلانز کو کس طرح خفیہ “ذو معنی الفاظ” بناکر پیش کرتے ھیں. اب آپ اسرائیلی وزیر صحت اور وزیر دفاع کے بیانات ذھن میں لاکر ان پر غور کریں جس میں ایک کہتا ھے کہ ھمیں کرونا سے کوئی پریشانی نہیں اور دوسرا کہتا ھے کہ ھمیں نجات دلانے والا” مسیحا ” جلد آنے والا ھے. اسکے علاوہ اسرائیل کے چیف ربی نے بھی اعلان کیا ھے کہ مسیحا اسی سال آئے گا پچھلے دنوں پہلے آپ نے ٹویٹر پر اسکا ٹرینڈ بھی دیکھا ھوگا جو پاکستان میں قادیانیوں نے بنایا تھا اور یہودیوں کے وہ نظریاتی باطل غلام جو اس وقت پاکستان میں موجود ھیں انہوں نے اس پر خوب محنت کی تھی۔ جی ہاں 0 بالکل ٹھیک سمجھ رھے
ھیں آپ اسی لیئے سب کو گھروں میں قید کروا کے ھر جگہ کرونا کرونا کروایا جارھا ھے۔یہ محض اتفاق نہیں ڈیجیٹل دور کے آغاز میں اس کرونا کے نام پر آپ کے لیئے جو ویکسین تیار کی گئی ھے اس سے آپ کے دماغ سے حقیقی معبود کا خیال نکال کر آپ کو دجال کی پیروی پر آمادہ کیا جارھا ھے لہذا اس لفظ کو بھی استعمال کرنے سے روکیں کیوں کہ کرونا وائرس نہیں صرف یہودیوں کا پیدا کیا گیا ایک باطل نظریاتی وھم ھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں