نواز شریف کا حسین نواز کے ذریعے جہانگیر ترین سے رابطہ! مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کی باقاعدہ  دعوت، JKTکے فیصلے نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی

نواز شریف کا حسین نواز کے ذریعے جہانگیر ترین سے رابطہ! مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت، JKTکے فیصلے نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے 2 بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کا جہانگیرترین سے رابطوں کا انکشاف سامنے آیا، نواز شریف اور آصف زرداری نے جہانگیرترین کو ملاقات کیلئے پیغام بھیجا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجنے کی منصوبہ بندی سامنے آگئی ، 2 بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کا

جہانگیرترین سے رابطوں کا انکشاف ہوا، رابطےپچھلےکئی ماہ سےجاری ہیں، اور لندن پلان بھی بنایا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف نےجہانگیرترین کوملاقات کیلئے خفیہ پیغام بھی بھجوایا، پیغام حسین نوازکےذریعےبھیجاگیا، جس میں لندن میں ملاقات کی درخواست کی گئی۔ذرائع کے مطابق شہبازشریف نے بھی جیل جانےسےقبل معاملات طےکرنےکاپیغام بھیجا اور قابل اعتمادشخص کےذریعےڈیل کی پیشکش کی ، لیگی قیادت کے رابطے جہانگیرترین کی لندن موجودگی کے دوران ہوئے، حسین نواز نے لندن اور شہباز شریف نے پاکستان میں معاملات طے کرنے کا کہا۔ذرائع نے کہا ن لیگ ڈیل کے بدلے جہانگیرترین کے ساتھیوں کاساتھ چاہتی تھی جبکہ نواز شریف نے رابطے کی کوشش سے متعلق معاملات کو خفیہ رکھنے کا کہا تھا۔ذرائع کے مطابق جہانگیرترین نے جواب میں کہا نوازشریف کی نااہلی میں کرداراداکیا ، ان سےملاقات کیسے کر سکتا ہوں، سیاست کیلئے نااہل ہوچکا اور پارٹیاں بدلنے کی عمر نہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے بھی جہانگیرترین کو ملاقات کیلئے پیغام بھیجا۔پیپلزپارٹی کی جانب سے رابطے سینیٹ الیکشن کے دوران بھی کئے گئے، آصف زرداری کےقریبی دوست اور اہم رہنماجہانگیرترین سےاب بھی رابطےمیں ہیں ، تاہم جہانگیرترین نے جواب دیا ہے کہ خود سیاست کر سکتا ہوں اور نہ بیٹے کو لانا چاہتا ہوں۔ذرائع نے بتایا کہ یوسف رضا گیلانی جہانگیرترین کی کمپنی کےجہازمیں مہم چلاتےرہے، اسی جہازمیں عمران خان بھی اپنی انتخابی مہم چلاچکےہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کے واٹس ایپ مسیجز نظر انداز کر دیے.ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور جہانگیر ترین کا واٹس ایپ رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوچکا ہے۔ جہانگیرترین نے گذشتہ چند ہفتوں میں وزیراعظم کو پانچ سےزائد میسج بھجوائے۔ جہانگیر ترین نے پارٹی سے اپنی وفاداری کے متعلق میسج بھیجے۔جہانگیر ترین نے اپنے کیسز میں وضاحت کا میسج بھی بھیجا۔ لندن سے واپسی پر جہانگیر ترین نے فون پر بھی وزیراعظم سے ایک مرتبہ رابطہ کیا، رابطہ وزیراعظم اور جہانگیر ترین کےمشترکا دوستوں کے مشورے پرہوا تھا۔وزیراعظم نے جہانگیر ترین کے حالیہ مسیجز کا کوئی جواب نہیں دیا، وزیراعظم شفاف اور بلاامتیاز احتساب پر کوئی سمجھوتہ کرنےکو تیار نہیں ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں