میرے وزیروں کو بھی نہیں پتہ کہ ہم نے پچھلے دو سال کتنی تنگی میں گزارے ہیں۔۔۔!!!وزیر اعظم عمران خان کا خطاب،  ناقابل یقین دعویٰ کر دیا

میرے وزیروں کو بھی نہیں پتہ کہ ہم نے پچھلے دو سال کتنی تنگی میں گزارے ہیں۔۔۔!!!وزیر اعظم عمران خان کا خطاب، ناقابل یقین دعویٰ کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے فراش ٹائون میں نیاپاکستان ہائوسنگ سکیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا اورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب غریب کااپنا گھر ہوگا،اب اس سکیم کے تحت جو وہ کرایہ دیتے ہیں اسی کرائے کو وہ قسطوں کے طور پر دیں گے اور وہ اپنے گھر کے مالک بن

جائیں گے،کچیآبادیوں کو بھی مالکان حقوق دیئے جائیں گے ، اس حوالے سے سی ڈی اے نے بہت بڑا پلان بنایا۔نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے تحت فراش ٹائون اپارٹمنٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ سستے قرضے دینے کے حوالے سے ہماری تمام کوششیں کامیاب ہوئی ہیں اور آج فراش ٹائون دوسال کے اندر یہاں لوگوں کو گھر مل جائیں گے ،اس کیلئے جنرل حیدر اور نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔جب چھوٹے قرضے کے لئے لوگ بنک جاتے ہیں تو ان کو بہت سی مشکلات اٹھانا پڑتی ہیں اور بنک میں ابھی بھی یہ مشکلات چل رہی ہیں ہم ان کو دور کررہے ہیں،سی ڈی اے کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس پروگرام کے لئے بہت محنت سے کام کیا۔لوگ اجازت کیلئے سی ڈی اے کے پاس جاتے تھے اور وہ نقشے منظور نہیں ہوتے تھے اور پیسے بھی لوگوں سے مانگتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ کرتارپور کی تیاری بھی ریکارڈ وقت میں کی اور اس فراش ٹائون کے فلیٹس کی بھی اسی طرح تیاری کریں گے۔پہلے دو ہزار فلیٹ متوسط طبقے کو دیئے جائیں گے ،یہ گھر ایسے لوگوں کو دیئے جائیں گے جو کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں اور کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ اسلام آباد میں اپنا گھر بنا سکیں گے لیکن اب ان کا خواب پورا ہونیوالاہے۔اب اس سکیم کے تحت جو وہ کرایہ دیتے ہیں اسی کرائے کو وہ قسطوں کے طور پر دیں گے اور وہ اپنے گھر

کے مالک بن جائیں گے ،وائلڈر، مکینک ، مزدور اور کسانوں کو بھی اپنے گھر دیں گے اور یہ ساری سکیمیں انہی لوگوں کے لئے بنائی جارہی ہیں۔تین لاکھ روپے حکومت ہر گھر پر سبسڈی دے رہی ہے ،کچی آبادیوں کے لئےکسی نے کبھی نہیں سوچا اور یہ آبادیاں بڑھتی جارہی ہیں ، کراچی میں چالیس فیصد اور اسلام آباد میں بھی اسی طرح کی کچی آبادیاں ہیں ،ہم ان کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیں گے اور تمام سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔نہ وہاں کوئی سیوریج سسٹم ہے اورنہ پانی کی سہولت ہے لیکن ہم سب کچھ کچی آبادی کے رہائشیوں کو دیناچاہتے ہیں اس حوالے سے سی ڈی اے نے بہت بڑا پلان بنایا ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے اوپر قرضے چڑھ رہے ہیں ہر سال قسطیں بڑھتی جارہی ہیں بدقسمتی سے ہم نے اپنی معیشت کو درست نہیں کرسکے ہماری کوشش ہے کہ ملک کی دولت کے اندر اضافہ کریں اور جیسے جیسے دولت میں اضافہ ہوگا ہم قرضوں کی قسطیں واپسکرسکیں ،نیا ہائوسنگ پروگرام کے ساتھ 30ملکی انڈسٹریز منسلک ہیں اور جب یہ سکیمیں بننا شروع ہوں گی تو اس سے مزید کنسٹرکشن کمپنیاں منسلک ہو جائیں گی اور اس سے روز گار بڑھے گا ،کنسٹرکشن کی ترقی پاکستان میں ریکارڈ عروج پر پہنچ چکی ہے اور اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ پچھلے ماہ جو سیمنٹ کی سیل ہوئی ہے وہ سبسے زیاد ہوئی ہے ،جو ہم نے کنسٹرکشن انڈسٹریز کو پیکیج دیئے تھے ان پر کام شروع ہو گیا ہے۔پچھلے مہینے ایف بی آر نے ٹیکس بھی سب سے زیادہ اکٹھا کیا ہے اس کا مطلب ہے کہ ہمارے کاروبار بڑھے ہیں تو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں اور دولت ہمارے پاس آرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ میرے وزیروں کو بھی نہیں پتہ کہ ہم نے پچھلے دوسال کتنی تنگی میں گزارے ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ (ن)لیگ کی پچھلی حکومت نے اپنے ڈھائی سالوں میں ٹوٹل قرضوں کی قسطیں اور سود واپس کیا تھا وہ 20ہزار ارب تھا اور ہم نے ڈھائی سالوں میں 35ہزار ارب قسطیں واپس کی ہیں اگر ہم پندرہ ہزار ارب سڑکوں اور ٹرانسپورٹ پر لگا دیتے تو لوگوں کے ٹرانسپورٹ کے مسائل اور انفراسٹرکچر کے مسائل حل ہوجاتے۔دو ڈیمز بنا رہے ہیں جو پچاس سال بعد بن رہے ہیں اس سے ہماری زراعت کوفائدہ ہوگا ، ہمارے پاس سستی بجلی ہو گی اور اس سے بھی ہماری دولت میں اضافہ ہوگا ،ایم ایل ون چین کے ساتھ ملکر بنائیں گے اور کراچی اور لاہور کا سفر صرف ا?ٹھ گھنٹے میں کراچی سے لاہور پہنچ سکیں گے ، ہماری کارگو اور فریٹ سب کچھ چینج ہو جائیگا اور یہ ٹرین پشاور ،ازبکستان اور افغانستان کے راستے سنٹرل ایشیا تک جائے گی اس سے بھی پاکستان کی دولت میں اضافہ ہوگا ،ٹیکسٹائل انڈسٹریز عروج پر ہے ان کو ورکرز نہیں مل رہے ،خام مال بھی شارٹ ہوگیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں