پاکستان کا وہ شہر جہاں کے زیادہ تر بہادر لوگ پاک فوج میں ہیں، علاقے کا نام جان کر آپ کو بھی وہاں رہنے پر فخر ہوگا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان کا وہ شہر جہاں کے زیادہ تر بہادر لوگ پاک فوج میں ہیں، علاقے کا نام جان کر آپ کو بھی وہاں رہنے پر فخر ہوگا ۔۔۔’’میانوالی، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ سرائیکی اور پنجابی زبان بولتے ہیں۔ یہاں پاک فوج کا فوجی ہوائی اڈا بھی ہے۔ یہاں کے بہادر لوگوں کی کثیر تعداد پاکستان فوج میں شمولیت اختیار کرتی ہے۔ میانوالی ضلع 5840 مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلا ہوا ہے‘‘

معاشرتی لحاظ سے میانوالی ضلع کیونکہ بنوں کا حصہ رہا ہے تو یہاں کے لوگ قبائل میں تقسیم صدیوں سے چلے آ رہے ہی یہاں کی سب سے قدیم زبان سرائیکی ہے جو یہاں کے قدیم باشندوں کی زبان چلی آ رہی ہے 17 اور 18 صدی میں یہاں پشتو زبان کے افراد آباد ہوئے تو ان پر مقامی زبان نے چھاپ لگا دی تاہم اب بھی کچھ علاقے پشتو زبان پر مشتمل ہیں میانوالی میں تین لہجوں کی زبان بولی جاتی ہے۔شمال اور مشرق کی طرف پوٹھوہاری سے متاثرہ،جنوب اور مغربی سمت میں تھلوچی/سرائیکی لہجے کے زیر اثر ہے اور جنوب مشرق میں شاہپوری پنجابی حاوی ہے۔ضلع کی شمال مغرب میں پشتو زبان بولی جاتی ہے۔ ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی کتاب تاریح میانوالی میں محمد سلیم احسن لکھتے ہیں، میانوالی کے کئی نام ہیں۔ تاریحی طور پر اس کا نام دھنوان تھا جو معرب ہو کر شبوان بنا۔ اسے رام نگر اور ستنام کا نام بھی ملا ہے۔مصنف تاریخ نیازی قبائل محمد اقبال خان تاجہ خیل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میانوالی کا ایک نام یونانی دور میں “سینگون” بھی تھا۔ان کا کہنا تھا کہ میانوالی کسی دور میں یونانی قبضہ میں رہا اور اسکندر اعظم کی قلمرو میں راجدھانی تھا۔دریائے سندھ کے کنارے آباد ہونے کی وجہ سے کچھی بھی کہلایا۔1861ء میں جب بنو ضلع بنا تو کچھی کا دفتر بلوخیل میں تھا۔ سردار محمد خیات خان کٹھٹر اپنی کتاب خیات افغان 1865ء میں لکھتے ہیں کہ یہ علاقہ دریاہ کے کنارے پر ہونے کی وجہ سے کچھی بھی کہلایا اورہنوز اسی یعنی کچھی کے نام سے معروف ہے گریر سن دریائی مٹی سے بنی ہوئی زمیں (Aluvial Land) کو بھی لکھتے ہیں دراصل لچھی دریا کی دست برد کا علاقہ ہے۔ دریائے سندھ کا مشرقی کنارا تاریخی طور پر سیلابوں کی آما جگاہ بنا رہا۔ اس اعتبار سے کچھی کا علاقہ دریائے سندھ کی زرخیز مٹی کی وجہ سے بہت سر سبز اور آباد تھا ایک روایت کے مطابق مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں 1584ء میں شیخ جلال الدین اپنے بیٹے میاں علی کے ہمرا تبلیغ و اشاعت دین کی خاطر بغداد سے ہندوستان آئے۔ تاریخ میانوالی میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم ملک اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔ کہ , سندھ 91/90 ہجری (712/711 عیسوی) میں فتح ہو کر شامل ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔ ایک صدیوں تک اسلامی سلطنت کا حصہ رہا۔ یہیں سے ہندستان کے دوسرے علاقوں کو فتح کرنے کی کوشیش کی گئیں۔ گو کوئی قابل ذکر علاقھ فتح ہو کر اسلامی سندھ میں داخل نہیں ہوا۔ میانوالی پاکستان کے ان واحد لعلاقوں میں شامل ہے جہاں دو تہذیبوں کا ملاپ ہوتا ہے ایک طرف پشتو زبان کے لوگ اور دوسری طرف سرائیکی بولنے والے قبائل۔لیکن یہاں کے رسم و رواج رہن سہن پٹھانوں کے جنگ جو اور راجپوتوں کے جنگ جو قبائل جو ماضی کی ایک بہت وسعی تاریخ رکھنے والی قوم ہیں کے درمیان بہترین دوست ماحول میں پروان چڑی ہیں۔عورتوں کی پردہ داری اور وفا مردوں میں محنتی سخت جان اور اپنے وطن سے محبت کرنے والے جذبہ کے لوگوں کی دھرتی ہے گھوڑوں کے شوقین اور منفرد رقص انکا جنون رہا ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے یہاں پر اصل ثقافت سے ہٹ کر مختلف رجہانات بھی نظر آ رہے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں