72محکوموں کے سینکڑوں ملازمین کا مستقبل ختم۔۔۔ سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین پر بجلیاں گرادیں

72محکوموں کے سینکڑوں ملازمین کا مستقبل ختم۔۔۔ سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین پر بجلیاں گرادیں…..؟

محکوموں کے سینکڑوں ملازمین کا مستقبل ختم۔۔۔ سپریم کورٹ نے”
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 72 محکموں کے سینکڑوں ملازمین کو مستقل کرنے کا پشاور ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کے مطابق سپریم کورٹ میں صوبہ خیبرپختوخوا کے سرکاری ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ

نے کیس کی سماعت کی ، جس میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا ملازمین کی ریگولرائزیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل منظور کرلی ، سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔خیال رہے کہ اس سے پہلے عدالت عظمیٰ خیبرپختونخوا کے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر

بڑھانے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے چکی ہے ، چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مذکورہ کیس سماعت کی ، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چند سول سرونٹس کے تحفظات پر قانون کو غلط قرار نہیں دیا

جاسکتا ، انہوں نے ریمارکس دیے کہ قانون بنانا حکومت

کا کام ہے جب کہ عدالتیں قانون پر عملدرآمد کراتی ہیں۔دوران سماعت بینچ میں شامل جسٹس منیب اختر نے ریماکس دیے کہ جب روٹی پک جاتی ہے تو یہ پوچھنا بیکار ہے کہ آٹا کہاں سے آیا ، عدالت عظمیٰ نے خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے معاملہ دوبارہ پشاور ہائی کورٹ بھجوا دیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے

قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ قانون کے مطابق فیصلہ کرے ، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صرف وضاحتوں سے قانون چیلنج نہیں ہوتے کیوں کہ قانون آئین کے تحت بنتا ہے رولز آف بزنس سے نہیں۔جب کہ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی کو اسمبلی کی کارروائی پر اعتراض ہے تو اسمبلی میں جاکر شکایت

کرے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جب قانون پر گورنر کے دستخط ہوگئے تو معاملہ ختم ہوگیا جب کہ قانون سازی میں کسی کا مؤقف سننے کا تصور نہیں ہے۔

(روزنامہ سیاست)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں