دراڑیں مزید واضح ہوگئیں ۔۔!!  پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کی اصلیت بے نقاب کرنے کا اعلان کر دیا

دراڑیں مزید واضح ہوگئیں ۔۔!! پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کی اصلیت بے نقاب کرنے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) پی ڈی ایم میں دراڑیں مزید وسیع، عدم اعتماد بڑھنے لگا، پی پی رہنماؤں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی اصلیت بے نقاب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بول نیوز کے مطابق مطابق شوکاز نوٹس کے اجراء کے بعد پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم رہنماؤں کی اصلیت عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان



اور مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز کی بیماری پر بھی سوالات اٹھا دیئے۔ پی ڈی ایم رہنماؤں سے پوچھا گیا ہےکہ لانگ مارچ کا اعلان کرکے بیمار ہو جانے کے پیچھے حقائق کیا ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز دونوں کے کورونا ٹیسٹ منفی آئے، جس کے باوجود دونوں کی لانگ مارچ پر خاموشی معنی خیز ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے تو لانگ مارچ کی تیاریاں کر لیں تھیں۔ذرائع پیپلز پارٹی کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت بچانے کے لیے دونوں لانگ مارچ کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہےکہ شو کاز نوٹس کا جواب بھی دیں گے اور پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں جواب بھی مانگیں گے۔دوسری جانب پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا معاملہ، پیپلز پارٹی کے بغیر ہی ن لیگ کا حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی مشاورت,مسلم لیگ (ن) نے حکومت مخالف تحریک کے لئے 3 مرحلوں پر مشتمل نئی حکمت عملی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ پیپلز پارٹی کے بغیر ہی ن لیگ نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے حکومت مخالف تحریک کے لئے نئی حکمت عملی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد کی ہدایت پر احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید، سمیت دیگر رہنماؤں نے حکمت عملی کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے سر جوڑ لئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد حکمت عملی کی حتمی منظوری دیں گے۔ حتمی منظوری کے بعد ن لیگ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیش کرے گی۔ مسلم لیگ ن حکومت کے خلاف 3 مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی پر غور جاری ہے۔ لیگی ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ناکام معاشی پالیسیوں پر احتجاج کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں علاقائی سطح پر کانرزمیٹنگز، شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کی کال دی جائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) کے تمام ونگز اپنی سطح پر ان ہڑتالوں میں متحرک کردار ادا کریں گے۔ تیسرے مرحلے میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی کال دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ اداروں کی بجائے حکومت مخالف تحریک میں وزیراعظم کو ہدف تنقید کا نشانہ بنائے گی۔










50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں