مہنگائی تو صرف بہانہ نکلی ! 12اور 30مارچ کے درمیان عمران خان اورحفیظ شیخ کے درمیان کیا ہوتا رہا؟سب کچھ کھل گیا

مہنگائی تو صرف بہانہ نکلی ! 12اور 30مارچ کے درمیان عمران خان اورحفیظ شیخ کے درمیان کیا ہوتا رہا؟سب کچھ کھل گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا، ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات

ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی، ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں۔ اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا۔ اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا؟ بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفیظ شیخ کی رخصتی کا سبب بنے۔ سابق وفاقی وزیر زبیر خان کی رائے میں مہنگائی کیلئے عبدالحفیظ شیخ سے زیادہ گورنر سٹیٹ بینک ذمہ دار ہیں۔ عبدالحفیظ شیخ گزشتہ ادوار میں بھی ملک کے وزیر خزانہ رہے، ملکی اقتصادیات کو بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن انہیں اس سے قبل کبھی اس طرح رسوا رکن انداز میں رخصت نہیں کیا گیا۔ ندیم بابر کے معاملے میں بھی وزیراعظم اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ اسد عمر گو کہ براہ راست انتخابی عمل میں کامیابی سے گزر کر وزیر بنے۔ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے قبل ہی انہیں ممکنہ وزیر خزانہ تصور کیا جارہا تھا۔ تاہم عبدالحفیظ شیخ کے فارغ ہوجانے پر بھی انہیں وزارت خزانہ نہیں سونپی گئی بلکہ حماد اظہر کو یہ منصب دے دیا گیا۔ وہ ایک منجھے ہوئے نوجوان سیاست دان ہیں لیکن انہیں دی گئی بھاری ذمہ داری کو نبھانے کا خاطر خواہ تجربہ نہیں ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں