’’ آپ اور آپکی بیٹی کی وجہ سے ۔۔۔‘‘  معاملات بگڑ گئے، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف میں تلخ جملوں کا تبادلہ

’’ آپ اور آپکی بیٹی کی وجہ سے ۔۔۔‘‘ معاملات بگڑ گئے، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف میں تلخ جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سینئر صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف میں گہرا تعلق ہوتا تھا۔مریم نواز کہتی تھی مولانا فضل الرحمن اور ہم مل کر ایک تحریک چلائیں گے۔میری اطلاعات کے مطابق نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن میں رابطہ ہوا جس میں یوسف رضا



گیلانی کے اپوزیشن لیڈر بننے سمیت مختلف باتیں زیر بحث آئیں۔جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میاں صاحب آپ جو ساری ذمہ داری مجھ پر ڈال رہے ہیں کہ آپ سے مینج نہیں ہوا لیکن آپ اپنی بیٹی کو بھی سمجھائیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کی بیٹی کا جارحانہ رویہ اور آپ دونوں کی اداروں کی تنقید کی وجہ سے حکومت بچ گئی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف سے کہا کہ آپ نے ہمیں بھی اداروں پر تنقید کرنے پر لگا دیا۔ایسا لگتا تھا کہ مسلم لیگ ن کا بیانیہ ہیں پی ڈی ایم کا بیانیہ ہے۔آپ کے اور آپ کی بیٹی کی وجہ سے پی ڈی ایم کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔پیپلز پارٹی بھی ہمارے ساتھ تھی لیکن آپ کے رویوں کی وجہ سے وہ ہمارے سے دور ہو گئی۔جس پر نواز شریف نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو اسمبلیوں میں ہیں ہم تو آپ کے لیے سب کر رہے تھے۔قبل ازیں رانا عظیم نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں نواز شریف نے سخت گلہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب ہم نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہوگا اور ہمارے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے، پہلے سینیٹ الیکشن میں ہماری امیدوار کو ہرایا گیا۔اس کے بعد بھی کئی موقعوں پر ہمیں دھوکا دیا گیا لیکن آپ آصف علی زرداری کی گارنٹی دیتے تھے۔مصنوعی نواز شریف نے مولانا کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ خیال کیا جس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری مجبوری ہے سب کو ساتھ لے کر چلنا۔ اگر آنے والے وقت میں حکومت پر پریشر بنانا ہے تو سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا ،جس پر نواز شریف نے کہا کہ ہمیں پتا ہے پریشر کیسے بڑھانا ہے اور کیا کرنا ہے لہذا آپ آصف علی زرداری کی مزید وکالت نہ کریں ۔رانا عظیم نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم میں اختلافات آنے والے دنوں میں مزید تیز ہو جائیں گے ۔اگر آنے والے دنوں میں یہ کٹھے ہو بھی گئے تو مریم نواز آصف علی زرداری کے کیے جانے والے ہر فیصلہ سے اختلاف کریں گی جبکہ وہ بھی مریم نواز کے فیصلوں سے اختلاف کریں گے۔










50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں