ہمارے پاس آپشن ختم ہوچکے ہیں اس لیے ۔۔۔مولانا فضل الرحمان نے بالآخر اعتراف کرلیا،  تہلکہ  خیز تفصیلات

ہمارے پاس آپشن ختم ہوچکے ہیں اس لیے ۔۔۔مولانا فضل الرحمان نے بالآخر اعتراف کرلیا، تہلکہ خیز تفصیلات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس سارے آپشن ختم ہوچکے ہیں اس لیے استعفوں کا آپشن استعمال کرنے پر نو جماعتوں نے اتفاق رائے کیا، لانگ مارچ کا معاملہ رمضان کے بعد تک چلا گیا ہے، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ ن کا ہوگا۔



نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم نے عدم اعتماد کا پہلا تجربہ سینیٹ چیئرمین کے خلاف کیا تھا لیکن اکثریت کے باوجود ہار گئے تھے، اگر یہی صورتحال قومی اسمبلی میں ہوجائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہم از خود اس ناجائز اسمبلی کو قانونی جواز مہیا کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے نو جماعتوں کی رائے یہ ہے کہ ہمارے پاس آپشن ختم ہوچکے ہیں اس لیے استعفوں کے آپشن کو ہی استعمال کیا جائے ۔


انہوں نے کہا بظاہر یہی لگتا ہے کہ لانگ مارچ کا معاملہ رمضان کے بعد تک چلا گیا ہے، ہم آپس میں رابطے میں ہیں اور پر امید ہیں کہ اس کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا، کل آصف زرداری اور آج میاں نواز شریف سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ نواز شریف نے کہا کہ کوئی ایسی صورت کی جائے کہ ہم بہت جلد دوبارہ پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلانے کے قابل ہوجائیں۔


سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے اختلاف کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اجلاس میں یہ طے ہوا تھا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی، ڈپٹی چیئرمین جمعیت علما اسلام اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ ن کا ہوگا۔ اب ہم اگر کامیاب نہیں ہوسکے تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ہم اپنے معاہدے سے پھر جائیں اور اپنے قول سے ہٹ جائیں۔’آصف زرداری نے کہا تھا کہ اگر آپ نواز شریف سے بات کرلیں تو چاہوں گا رضا ربانی سینئر آدمی ہیں انہیں اپوزیشن لیڈر بنایا جائے، شیری رحمان کا تو نام ہی نہیں لیا، مسلم لیگ ن نے کہا کہ یہ معاملہ طے شدہ ہے اس کو آپ کیوں چھیڑتے ہیں۔‘



ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں مولانا عبدالغفور حیدری کو کم ووٹ پڑنے کے حوالے سے پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہماری ہی صفوں کے اندر سے ووٹ کہاں گئے؟ ہم نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کے وقت معاملے پر زیادہ توجہ نہیں دی تھی لیکن اس معاملے کو سنجیدہ لیا جانا چاہیے، اس کا حل یہ ہے کہ باقاعدہ کمیٹی بنا کر تحقیقات کی جائیں۔






50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں