پی ڈی ایم میں ٹوٹ پھوٹ اور اختلاف۔۔۔!!!اند ر خانے  کیا  چل  رہا  ہے  ؟شاہد خاقان عباسی کھل  کر بول  پڑے  ، سب  کچھ و اضح کر دیا

پی ڈی ایم میں ٹوٹ پھوٹ اور اختلاف۔۔۔!!!اند ر خانے کیا چل رہا ہے ؟شاہد خاقان عباسی کھل کر بول پڑے ، سب کچھ و اضح کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)مسلم لیگ ن کے سینئرنائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی نظام نہ چلنے دینے میں سپیکر ملوث ہیں ،وزیراعظم نےسپیکرکوخط لکھاہے،وزیراعظم اس سپیکر کوخط لکھتا ہےجس کونہ پارلیمانی اداب کاپتاہے،اپوزیشن لیڈر جیل میں ہے اور سپیکر خاموش ہیں ،سپیکر سے پروڈکشن آرڈر مانگنا بند کردیا ہے،پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) ایک تحریک ہےجس کامقصد ملک کو آئین کےمطابق چلاناہے،پی ڈی ایم بارے جاری قیاس آرائیوں میں حقیقت نہیں ہے،پی ڈی ایم متحدہے،جب تک ملک آئین کے مطابق نہیں چلےگا،ترقی نہیں کرسکتا۔



تفصیلات کے مطابق پارٹی رہنماؤں احسن اقبال اور مریم اورنگزیب کےہمراہ پریس کانفرنس کرتےہوئےشاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے حوالے سےقیاس آرائیاں ہورہی ہیں،پی ڈی ایم اپناسفرجاری رکھے گی،ہم کچھ ذاتی طور پر نہیں چاہتے،ہمیں اقتدار میں حصہ نہیں چاہیے،نظام کو بدل کرپاکستان کو بہتر مستقبل دیناچاہتے ہیں،پی ڈی ایم انتخابی اتحادبن بھی سکتاہےنہیں بھی لیکن یہ بعدکی بات ہے،پی ڈی ایم نےکل کافیصلہ اتفاق رائےسےکیاہے،پیپلز پارٹی کو سی ای سی سے مشاورت کے لئے وقت دیا گیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی تاریخ میں سب سےطویل تقریریں کرچکےہیں لیکن وزیراعظم مہنگائی پرکبھی بات نہیں کرتے،کوئی محکمہ نہیں چل رہا، نظام مفلوج ہے،وزیراعظم نے پانچ اپوزیشن رہنماؤں کے نام لے کر ہتک کی ،وزراء بتائیں انھوں نے اپنے محکموں میں کیا کام کیا؟وزیراعظم نےسپیکرکوخط لکھاہے،انھوں نےاب ایک دوسرےکوخط لکھنا شروع کر دیاہے،وزیراعظم اس سپیکر کوخط لکھتا ہے جس کونہ پارلیمانی اداب کاپتاہے،نہ روایات کا،الیکشن کانظام موجودہے،اسےخراب کرنے والےکوپکڑیں،ڈسکہ پولنگ افسران کواغوا کرنیوالے،سینیٹ میں کیمرےلگانیوالےکوپکڑیں،جب تک ہم الیکشن چوری کرنانہیں چھوڑیں گےملک ترقی نہیں کرسکتا،بات کرتےہیں الیکٹرونک مشینوں کی، وہ انہیں بھی اٹھاکرلےجائیں توکیاہوگا؟وزیراعظم نے پانچ اپوزیشن رہنماؤں کے نام لے کر ہتک کی ،اپوزیشن لیڈر جیل میں ہے اور سپیکر خاموش ہیں ۔


انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے اور اتفاق رائے ہر اجلاس میں ہوتا ہے،نظام مفلوج ہے،استعفےدیےجائیں یانہیں؟ اس پراتفاق رائےنہیں ہوسکا،پی ڈی ایم نےکل کافیصلہ اتفاق رائےسےکیاہے، پیپلز پارٹی کو سی ای سی سے مشاورت کے لئے وقت دیا گیا ہے،ہم کچھ ذاتی طور پر نہیں چاہتے،حکومت عدلیہ ،الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہے،پارلیمانی نظام نہ چلنے دینے میں سپیکر ملوث ہیں ،سپیکر سے پروڈکشن آرڈر مانگنا بند کردیا ہے۔








50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں