بھارت کا فاشسٹ چہرہ بے نقاب۔!! پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے ناقابل تردید ثبوت پیش، افغانستان میں کتنے بھارتی کیمپ موجود ہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر تہلکہ حقائق سامنے لے آئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پاکستان میں بھارتی

شر پسندی کے ناقابل تردید شواہد پیش کر دیئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت شر پسندوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے، نومبر اور دسمبر میں بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے بڑے

شہروں میں شرپسندی کروانا چاہتا ہے، بھارت کی اشتعال انگیزی سے متعلق شواہد موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کالعدم تنظیموں کا کنسورشیم بنارہا ہے،بھارتی ایمبیسی اورقونصلٹ شرپسندی کے مرکز ہیں جہاں سے انڈیا شرپسندی کے لئے فنڈنگ کرتا ہے، افغانستان مین بھارتی سفارتکار اور جلال آباد میں بھارتی قونصلر شرپسندی تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے رابطے میں ہے اور انکو فنڈنگ کر رہا ہے، بھارتی ایجنسی را تھرڈ کنٹری کو فنڈنگ کر رہی ہے شرپسندی کو پھیلانے کے لئے انڈین بینک سے رقوم بھیجی جاتی ہیں،پنجاب بینک انڈیا سے رقوم بھیجی گئی اور افغانستان میں موصول ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی داعش پاکستان بنانے کی سازش کررہی ہے،

بھارت کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔ بھارت نے سی پیک کو سبو تاژ کرنے کے لئے ملیشیا بنائی ہے جس کے سات سو رکن ہیں، یہ بلوچستان کونشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ سرفراز مرچنٹ الطاف حسین گروپ کا اسکو را فنڈنگ کرتی تھی۔پاکستان میں شرپسندی کے لئے خودکش جیکٹ تقسیم کی جاتی ہیں اطلاعات کےمطابق بھارتی حکام4بار شرپسند تنظیموں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں،پاکستان میں حالیہ شرپسندی، شرپسند تنظیموں کی کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے،افغانستان میں موجود بھارتی کرنل راجیش شرپسند تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

بھارت نےحال ہی میں 30داعش شرپسندوں کو پاکستان اور ارد گرد منتقل کیا۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ افغانستان میں بھارتی قونصل خانےسازش میں ملوث ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ الطاف حسین گروپ کوبھارتی خفیہ ایجنسی’را‘نےدوکمپنیوں کےذریعےفنڈنگ کی،را نے قبائلی علاقوں میں بدامنی کیلئے آئی ای ڈیز اور اسلحہ تقسیم کیا،بھارتی خفیہ ایجنسی اپنے فرنٹ مین کودیگرممالک میں فنڈنگ کررہی ہے،

شرپسندوں کی تربیت کیلئے افغانستان میں 66اورایک کیمپ بھارت میں قائم ہے،بھارت نے کندھار میں شرپسندوں کے کیمپ کیلئے30ملین ڈالرز لگائے، اجمل پہاڑی نے چیف جسٹس کے سامنے تسلیم کیا کہ بھارت نے 4کیمپ قائم کیے ہیں،پی سی گوادر پر اٹیک کیلئے بھارت نے 0.5ملین ڈالر فنڈنگ کی، شرپسند اسلم اچھو بھارتی اسپتال میں زیرعلاج رہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹراللہ نذرنے جعلی افغان پاسپورٹ پربھارت کا سفرکیا، الطاف حسین گروپ کے افراد نے بھارت میں شرپسندوں کی ٹریننگ کی،الطاف حسین گروپ کی بھارتی ایجنسیز کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہیں، سیکورٹی فورسز نے کراچی میں را کے سلیپر سیل پکڑے ہیں،

محمود صدیقی اس نیٹ ورک کو آپریٹ کر رہا تھا، اس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ‏پریس کانفرنس میں ڈاکٹراللہ نذراوربھارتی خفیہ ایجنسی’را‘حکام کےدرمیان آڈیوگفتگوچلائی گئی،پریس کانفرنس میں ایک اور آڈیو بھی چلائی گئی جس میں حملہ آور کو ہدایت دی جا رہی ہیں کہ حملہ کیسے کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی ایجنسیز کے 9 وائس نوٹ ہیں جو سامنے آئے ہیں اور وہ پریس کانفرنس میں سنوائے گئے،ویڈیو میں شرپسندی کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ حملہ کیسے کرنا ہے ،واٹس ایپ پر لوکیشن بھیجنے اور ویڈیو بھیجنے کی بھی ہدایت کی گئی، کاروائی سے پہلے کی ویڈیو بنانے کی بھی ہدایت کی گئی، شرپسندی کو کہا گیا کہ مجھے وہ کاروائی چاہئے جو انٹرنیشنل خبروں میں آئے، پریس کانفرنس میں ایک اور آڈیو بھی سنائی گئی جس میں کہا گیا کہ کاروائی کرو گے تو چار لاکھ روپے پاکستانی مل جائیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت شر پسندوں کواسلحہ اوربارودبھی فراہم کررہاہے،عدم استحکام پیدا کرنےکیلئےعلماکرام ان

لوگوں کاہدف ہیں ،مستونگ، کوئٹہ و دیگر بلوچستان کے علاقوں کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی گئی، آزاد کشمیر اور بلتستان کو بھی عدم استحکام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،بھارتی ایجنسی را یہ سب کچھ کر رہی ہے،را نے 55ہزار 581 ڈالر بھارتی بنک کے ذریعے منتقل کیے،بلوچستان میں انتشار کیلئے بھارت نے23.5ملین ڈالر دیئے،پی ایس ایکس اٹیک میں بھارتی باردو،خودکش جیکٹس استعمال ہوئیں،ملک فریدون کے بھارتی ایجنسی سے رابطے تھے وہ اے پی ایس اٹیک میں بھی ملوث تھا،اے پی ایس پشاور اٹیک کے بعد ملک فریدون افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ گیا،پی سی گوادر اٹیک کا ماسٹر مائنڈ را افسر انوراگ سنگھ تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی ایجنسی ’راُ اپنے فرنٹ مین کو تیسرے ممالک کے ذریعے فنڈ کرتا ہے، بھارت سے شرپسندی کے لیے افغانستان رقوم بھیجی گئیں، الطاف حسین گروپ کو بھارتی ایجنسی ’را‘ کی طرف سے فنڈنگ کی گئی جب کہ سی پیک کے خلاف بھارت نے 700 افراد پر مشتمل ملیشیا ترتیب دی۔ بھارت کئی تنظیموں کو ہتھیار، آئی ای ڈی اور خود کش جیکٹس فراہم کر رہا ہے، را نے ٹی ٹی پی کو بھی ہتھیار، خود کش جیکٹس اور آئی ای ڈیز فراہم کی جب کہ الطاف حسین گروپ کو بھی ہتھیار فراہم کیے گئے ۔ بھارتی تربیتی مراکز افغانستان میں بھی ہیں، اجمل پہاڑی نے تسلیم کیاکہ بھارت الطاف حسین گروپ کو تربیت دیتا ہے۔

Reference : Hassan Nisar

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں