عمران خان کے لوگ سنگا پور ، لندن اور امریکہ میں بیٹھ کر کس طرح سے اس مخالفین کو بدنام کرنے کے مشن پر کام کرتے رہے ؟

عمران خان کے لوگ سنگا پور ، لندن اور امریکہ میں بیٹھ کر کس طرح سے اس مخالفین کو بدنام کرنے کے مشن پر کام کرتے رہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔موجودہ دور حکومت میں ایک نقصان ایسا ہوا ہے کہ جس کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں جاتی، وہ ہے ملک میں پولرائزیشن کے کلچر کا فروغ اور معاشرتی قدروں کی پامالی۔ اس حوالے سے عمران خان نے بعینہ وہی کردار ادا کیا

جو امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ادا کیا ۔انہوں نے نفرتوں کو ہوا دی،آج سوشل میڈیا پر مغلطات اور فتویٰ بازی کی وجہ سے ہماری معاشرتی اقدار تباہ ہوتی جارہی ہیں۔ افسوس کہ سوشل میڈیا کے اس استعمال کی بنیاد پی ٹی آئی نے رکھی۔ ایک توپی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کی مرکزی اور صوبائی ٹیمیں تھیں۔ دوسری طرف جہانگیر ترین، اسد عمر، عارف علوی، عثمان ڈار اور اسی طرح کے دیگر لوگوں نے اپنی اپنی ٹیمیں بنارکھی تھیں۔ پھر سنگاپور، لندن اور امریکہ میں لوگوں کا نیٹ ورک بنا کر جعلی اکائونٹس کے ذریعے سیاسی اور صحافتی مخالفین کی ٹرولنگ ہوتی رہی۔ جواب میں مسلم لیگ (ن) اور پھر دیگر پارٹیوں نے بھی سوشل میڈیا کا اسی طرح کا استعمال شروع کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ورکرز ایک دوسرے کے بارے میں وہ زبان استعمال کرتے ہیں، جس کا مشرقی معاشروں میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ہماری سیاست میں پہلے بھی ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال ہوتی رہی لیکن مرکزی لیڈر کی طرف سے چور، اور منافق جیسے الفاظ پہلی مرتبہ عمران خان نے متعارف کرائے۔معاملہ زبان تک محدود ہوتا تو بھی زیادہ تشویشناک بات نہیں تھی لیکن اب وہ سلسلہ آگے بڑھ کر گھیرائو کی طرف جارہا ہے اور ایک وقت آئے گا کہ گھیرائو سے بڑھ کر جلائو تک چلا جائے گا۔ چند روز قبل مسلم لیگ(ن) کی مریم اورنگزیب، شاہد خاقان عباسی اور مصدق ملک کے ساتھ پی ٹی آئی والوں نے بدتمیزی کی اور گزشتہ روز لاہور میں پی ٹی آئی کے شہباز گل کے منہ پر سیاہی پھینکی گئی ۔

جس قدر پہلا عمل قابل مذمت تھا اسی طرح دوسرا قابل مذمت ہے لیکن لگتا ہے کہ یہ سلسلہ اب مشکل سے رکے گا۔ آج سے چار سال قبل پی ٹی آئی کے ایم پی اے جاوید نسیم منحرف ہوئے تو عمران خان کے حکم پر پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے ان کے گھر کا گھیرائو کرتے ہوئے، ان کے خلاف تقاریر کیں۔ جن صاحب نے تقریر کی تھی میں نے ان سے گزارش کی کہ وہ بہت غلط روش کو رواج دے رہے ہیں۔ سیاست کو گھروں تک نہیں لے جانا چاہئے لیکن ان کا کہنا تھا کہ خان کا حکم تھا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ کہیں لندن میں مسلم لیگی رہنمائوں کے گھروں کے سامنے مظاہرے ہوئے توکہیں ائیرپورٹ پر احسن اقبال کو گھیر لیا گیا۔ اب وہ سلسلہ پی ٹی آئی کے رہنمائوں کے ساتھ شروع ہونے لگا ہے۔صدحیف کہ اب خواتین اور بزرگ سیاستدانوں کے ساتھ بدتمیزی کا سلسلہ بھی عام ہوتا جارہا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ نقصان آخر میں خود پی ٹی آئی کے لوگوں کو اٹھانا پڑے گا۔ اقتدار کے بعد خان صاحب یا تو ملک میں نہیں رہیں گے یا پھر قومی لیڈر ہونے کے ناطے حصارمیں رہیں گے لیکن مجھے فکر ان کے وزیروں اور مشیروں کی ہے۔ کل اگر مولانا فضل الرحمٰن اپنے مدرسے کے طالب علموں سے ان لوگوں کے گھروں کا گھیرائو شروع کریں تو پھر کیا ہوگا؟یہ سلسلہ چونکہ پی ٹی آئی نے شروع کیا تھا، اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ اسے بند کرانے میں پہل کرے۔ ویسے بھی حکمران ہونے کے ناطے کسی بھی نامناسب عمل کی روک تھام اس کا فرض ہے۔ ایک بات سب کو ذہن نشین کرنی چاہئے کہ مغربی ممالک میں معاشرتی بنیادیں کمزور لیکن حکومت اور قانون مضبوط ہے۔ ٹرمپ نے امریکی معاشرے میں جو زہر گھول دیا، اس کو وہاں کا قانون قابو کررہا ہے۔ پاکستان میں حکومتیں کبھی مضبوط نہیں رہیں اور قانون نے ہمارے معاشرے کو قابو میں رکھنے میں کبھی بنیادی کردار ادا نہیں کیا۔ ہمارا معاشرہ مضبوط تھا۔ کہیں قبیلے کے سربراہ نے لوگوں کواکٹھا کیا ہے کہیں گائوں کے بزرگ اور مسجد کے امام نے۔ ان مضبوط معاشرتی بنیادوں نے ہی پاکستان کو جینے کے قابل رکھا ہوا ہے۔ یہ معاشرتی دیواریں گر گئیں تو بدامنی کو کوئی نہیں روک سکے گااور مکرر عرض ہے کہ اس میں زیادہ نقصان پی ٹی آئی والوں کو اٹھانا ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں