چیئرمین سینیٹ الیکشن : اگر یہ کیمرے ہٹ گئے تو بازی پلٹ سکتی ہے۔۔۔ حامد  میر  نے  اندر  کی بات  بتا دی

چیئرمین سینیٹ الیکشن : اگر یہ کیمرے ہٹ گئے تو بازی پلٹ سکتی ہے۔۔۔ حامد میر نے اندر کی بات بتا دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) چیئرمین سینیٹ الیکشن میں اگر یہ کیمرے ہٹ گئے تو بازی پلٹ سکتی ہے ، ان خیالات کا اظہار سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کیا۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ایمرجنسی میں ہوا لگتا ہے اسی لئے زیادہ مہارت نظر نہیں آ رہی۔ سینئر حاسی وتجزیہ کار کے مطابق چئیرمین سینیٹ کے الیکشن میں پولنگ بوتھ کے اوپر کیمرے لگا کر سیکرٹ بیلٹ کو اوپن کرنے کی کوشش کی گئی ہے اگر یہ کیمرے ہٹ گئے تو بازی پلٹ سکتی ہے



چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے سلسلے میں بنائے گئے پولنگ بوتھ سے خفیہ کیمرا برآمد ہوگیا ، سینیٹ ہال میں ووٹنگ کی جگہ پر کیمرہ نصب کیا گیا تھا ، پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ سینیٹ ہال سے کیمرا برآمد ہوگیا ہے ، جہاں ووٹ کاسٹ کیا جانا تھا وہاں سے کیمرابرآمد ہوا ، شازیہ مری نے پی ڈی ایم ارکان کو کیمرا برآمدگی سے متعلق آگاہ کیا جب کہ پیپلزپارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کیمرے کی تصویر ٹویٹ کردی۔


خیال رہے کہ 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ الیکشن کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب اہم مرحلہ ہے ، شیڈول کے مطابق 12مارچ کو دوپہر میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہو گا جب کہ ریٹائر ہونے والے سینیٹرز کی مدت 11 مارچ کو ختم ہو گئی ، جس کے بعد آج 12 مارچ کو صبح کے اوقات میں نو منتخب 48 سینیٹرز حلف اٹھایا چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کیلئے پریذائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے نو منتخب سینیٹرز سے حلف لیا ، جس کے بعد انہوں نے نئے سینیٹرز کو دستخط کے لیے بھی بلایا ، حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے شبلی فراز، فیصل واوڈا، ثانیہ نشتر، لیاقت ترکئی، سیف اللہ ابڑو اور ایم کیوایم کے فیصل سبزواری اور خالدہ اطیب نے حلف اٹھایا جب کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈوی والا، فاروق ایچ نائیک، شیری رحمان اور پلوشہ خان بھی آج حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں ، ان کے علاوہ مسلم لیگ ن کی سعدیہ عباسی اور اعظم نذیر تارڑ نے بھی آج حلف لیا جب کہ آج 12مارچ کو ہی دوپہر میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوگا۔


یاد رہے کہ سینیٹ کی کل 48 نشستوں کے الیکشن کے سلسلے میں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے ، تحریک انصاف نے 18 نئی نشستیں حاصل کر کے کل 28 نشستیں حاصل کر لیں جب کہ پیپلز پارٹی نے 8 نئی اور کل 21 ، مسلم لیگ ن نے 5 نئی اور کل 18 نشستیں حاصل کی ہیں ، بی اے پی کو 6 نئی اور کل 12 نشستیں ملی ہیں۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کو بھی کل 3 نشستیں مل چکیں، مسلم لیگ ق نے ایک نشست حاصل کی ہے ، آزاد امیدوار بھی اب تک 6 نشستیں حاصل کر چکے تاہم تحریک انصاف سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بننے کے باوجود ایوان میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔








50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں