نبی ﷺ نے فرمایا:میں اپنی بیویوں کے بغیر نہیں رہ سکتا

نبی ﷺ نے فرمایا:میں اپنی بیویوں کے بغیر نہیں رہ سکتا

زوجین کو آپس میں محبت کرنی چاہئے کیسی محبت؟روئے زمین پر والدین کے بعد زوجین سے بڑھ کر محبت کا اظہار کوئی بھی نہیں کرسکتا اس لئے لفظ شریعت نے استعمال کیا کیا ہے ومن آیٰتہ ٖ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینھا وبینکم مودۃ و رحمۃ ان فی ذالک لآیٰۃ لقوم یتفکرون اللہ تعالیٰ کی بہت ساری نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں سے اللہ کی طرف سے نشانی ہے کہ تمہارے لئے بیوی کا بندوبست کیا تم اس سے سکون حاصل کرتے ہو وجعل بینکم مودۃ ورحمہ تمہارے اندر محبت بھی رکھ دی تمہارے اندر رحمت بھی رکھ دی کیسی رحمت جب جوان ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں جب عمر بڑی ہوجائے تو ایک دوسرے پر ترس کھاتے ہیں رحمت کا پہلو غالب ہوجاتا ہے اس لئے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خیرکم خیرکم لاھلی وانا خیر لاھلی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے معاملے میں بہترین ہے وانا خیرلاھلی میں اپنی بیویوں کےبارے میں بہت بہتر ہوں

بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بات ختم کر دی یہ کہہ کر انی لا اصبر عنھن میں بیویوں کے بغیر نہیں رہ سکتا یہ سرتاج رسل صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا کرتے تھے جتنا جو رب کے قریب ہو تا ہے اتنا ہی وہ بیوی بچوں سے اچھا سلوک کرتا ہے جتنا رب کی رحمت سے دور ہوتا ہے اتنا وہ اپنی بیوی اور بچوں سے بھی دور ہوتا ہے ۔امت پر رسول اللہ کے حقوق میں ایک اہم حق آپسے محبت کرنا ہے اور ایسی محبت مطلوب ہے جو مال و دولت سے، آل اولاد سے بلکہ خود اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہو۔ یہ کمال ایمان کی لازمی شرط ہے۔ آدمی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے نزدیک رسول کریم کی ذات گرامی ماں باپ سے، بیوی بچوں سے اور خود اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ  بن جائے۔ یہ حبِ نبویؐ دین کی بنیاد اور اس کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ  ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے  ہوئے مال اور  وہ تجارت جس کی کمی سے تم  ڈرتے ہو اور  وہ حویلیاں جسے تم پسند کرتے ہو

اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اور اس کی راہ  کے جہاد سے بھی زیادہ  عزیز ہیں تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے،  اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔    والدین، بیوی بچے،  مال و دولت اور خاندان و قبیلہ وغیرہ ان سب کی محبت  فطری ہے اور اللہ کی طرف سے انسانی فطرت میں ودیعت ہے۔ آیت بالا میں اس کی نفی نہیں بلکہ اس بات کا مطالبہ ہے کہ ان سب چیزوں کی محبت سے زیادہ اللہ و رسول سے اور اللہ کے دین سے محبت ہونی چاہئے اور یہ ایسی لازمی و ضروری چیز ہے کہ اس کے نہ ہونے کی صورت میں سخت وعید ہے کہ اللہ کا عذاب بھی آسکتا ہے نیز آیت کے اخیر میں یہ کہہ کر کہ ” اللہ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔” اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ایسے لوگ جو اللہ و رسول  کو سب سے زیادہ محبوب نہیں رکھتے وہ فسق و گناہ میں مبتلا، راہِ حق سے ہٹے ہوئے  اور ہدایتِ الٰہی سے محروم ہیں۔ مومن کیلئے نبی کریم سے محبت کس درجہ اہم اور ضروری ہے ؟ احادیث  سے بھی اس کا اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کریمنے اس کو ایمان کی بنیاد قرار دیا۔ سیدناابوہریرہ ؓ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں